دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
سپین میں ہجرت کے نئے قوانین کا نفاذ؛ لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن کا عمل شروع
سپین کی حکومت نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی درجہ دینے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ان لوگوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنا اور انہیں باقاعدہ معیشت کا حصہ بنانا ہے۔ حقوقِ انسانی کے علمبرداروں نے اس اقدام کو سراہا ہے، تاہم انتظامیہ کو اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں پر کارروائی کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ وکلاء اور سماجی تنظیمیں اب ان لوگوں کی فہرستیں تیار کرنے میں مصروف ہیں جو اس ریگولرائزیشن کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی دیگر ممالک ہجرت سے متعلق سخت پالیسیاں اپنا رہے ہیں۔ ہسپانوی حکام کا ماننا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضروری ہے بلکہ اس سے ملک میں لیبر مارکیٹ کی کمی کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس بڑے پیمانے پر قانونی حیثیت دینے کے عمل سے سپین کی سماجی اور معاشی ساخت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے، اور یہ دیگر یورپی ممالک کے لیے ہجرت کے انتظام کا ایک نیا ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
