پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا، خواجہ آصف

پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا، خواجہ آصف

VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 30 ستمبر 2026

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے نئے دفاعی معاہدے کے تحت دستیاب تمام ذرائع استعمال کرے گا۔ انہوں نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا پاکستانی افواج پہلے ہی یمن میں حوثیوں کے خلاف کسی فضائی کارروائی میں شریک ہوئی ہیں یا نہیں۔

یہ بیان پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اگست 2026 میں طے پانے والے اس معاہدے کے مطابق ایک رکن پر حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک اس معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دے چکے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے پاکستان کی وابستگی واضح ہے، تاہم انہوں نے پاکستانی فوج کی جانب سے یمن میں براہِ راست کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی عرب کے لیے دستیاب ہوں گی۔

خطے میں یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال نے سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم سمندری راستے کی سیکیورٹی پر بھی توجہ بڑھا دی ہے۔

پاکستان ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے کا اعلان کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنے سفارتی روابط برقرار رکھنے اور خطے میں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی حمایت بھی کر رہا ہے۔ خواجہ آصف نے بھی مذاکرات اور وسیع تر علاقائی تنازع کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

نئے دفاعی اتحاد کے عملی ڈھانچے پر بھی کام جاری ہے۔ تینوں ممالک کے فوجی سربراہان حالیہ دنوں میں ریاض میں ملاقات کر چکے ہیں، جبکہ معاہدے کے تحت ایک مشترکہ سیکریٹریٹ اور دیگر انتظامی طریقۂ کار وضع کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال سفارتی اعتبار سے بھی اہم ہے کیونکہ اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ اپنے قریبی دفاعی اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ بھی سفارتی رابطے جاری رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اس سال امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان کا سعودی عرب کے دفاع سے متعلق تازہ بیان ملک کی دفاعی ذمہ داریوں، علاقائی سفارت کاری اور مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔ آئندہ اہم سوال یہ ہوگا کہ نئے دفاعی معاہدے کے عملی طریقۂ کار کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے اور پاکستان سعودی عرب کی حمایت کے ساتھ ایران کے ساتھ اپنے سفارتی روابط کو کس انداز میں برقرار رکھتا ہے۔

Source: Associated Press / Reuters

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس