نئے عدالتی سال کا آغاز، چیف جسٹس امین الدین خان کا آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر زور

نئے عدالتی سال کا آغاز، چیف جسٹس امین الدین خان کا آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر زور

VoS NEWS DESK | LAW & JUSTICE | 16 SEPTEMBER 2026

چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آئین ملک کا اعلیٰ ترین قانون ہے اور اس کے تحت قائم ہونے والا ہر ادارہ اپنی قانونی اور آئینی حدود کا پابند ہے۔ ان کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے لیے آئینی تشریح، بنیادی حقوق کے تحفظ اور آئینی نظام کی پاسداری اس کے بنیادی فرائض میں شامل ہیں۔

چیف جسٹس نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کو پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اہم ادارہ جاتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئینی مقدمات عام نوعیت کے تنازعات سے مختلف ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں ریاستی اداروں کے اختیارات کی تقسیم، بنیادی حقوق، آئینی حدود اور ریاست کے مجموعی آئینی ڈھانچے سے متعلق سوالات شامل ہو سکتے ہیں۔

نئے عدالتی سال کے موقع پر عدالتی آزادی، شفافیت اور عوام کے اعتماد کو بھی اہم موضوعات کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ چیف جسٹس کے مطابق عدالت کی ذمہ داری ہے کہ مقدمات کا فیصلہ آئینی اصولوں اور قانون کے مطابق کیا جائے اور عدالتی عمل میں غیر جانب داری اور ادارہ جاتی آزادی کو برقرار رکھا جائے۔

وفاقی آئینی عدالت کے سرکاری مؤقف کے مطابق عدالت آئینی معاملات کی تشریح، بنیادی حقوق کے نفاذ، وفاق اور صوبوں کے درمیان بعض آئینی تنازعات اور دیگر آئینی سوالات سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔ عدالت کی ویب سائٹ پر فیصلوں، کاز لسٹس اور دیگر عدالتی معلومات بھی دستیاب ہیں۔

تقریب کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان کی جانب سے بھی وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں کے ریاستی اختیارات اور آئینی معاملات پر وسیع اثرات کا ذکر کیا گیا، جبکہ پاکستان بار کونسل کے نمائندے نے آئینی استحکام کی اہمیت پر بات کی۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے ابتدائی دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت نے اپنے قیام کے وقت مکمل طور پر تیار ادارہ جاتی انفراسٹرکچر کے بغیر کام شروع کیا۔ عدالت کے ججز نے حلف اٹھانے کے بعد ہی آئینی مقدمات کی سماعت شروع کردی اور ابتدائی طور پر عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت میں کام کیا، بعد ازاں موجودہ عمارت میں منتقل ہوئی۔

انہوں نے عدالت کے موجودہ انتظامی دباؤ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق موجودہ عمارت تقریباً 46 سال قبل تعمیر ہوئی تھی اور اسے ابتدائی طور پر تقریباً 100 ملازمین کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جبکہ اب عدالت میں تقریباً 400 افسران، اہلکار اور متعلقہ عملہ کام کر رہا ہے۔ اس وجہ سے بعض دفاتر اور ورک اسپیس پر گنجائش کا دباؤ موجود ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق جسٹس امین الدین خان نے 14 نومبر 2025 کو عدالت کے پہلے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ عدالت نے 2026 میں اپنے مختلف بینچز اور رجسٹریز کے ذریعے عدالتی کارروائی جاری رکھی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد آئینی معاملات کے لیے ایک مخصوص عدالتی فورم کا کردار سامنے آیا ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق اس کے آئینی فرائض میں بنیادی حقوق کے نفاذ اور آئینی سوالات کی تشریح کے ساتھ وفاق اور صوبوں کے درمیان بعض تنازعات کی سماعت بھی شامل ہے۔

اسی آئینی دائرۂ اختیار کے تحت عدالت حالیہ دنوں میں مختلف اہم معاملات کی سماعت بھی کر رہی ہے۔ 15 ستمبر 2026 کو عدالت نے بعض مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا، جبکہ اسی ہفتے اس کے باقاعدہ بینچز میں مختلف سول اور آئینی نوعیت کے مقدمات مقرر تھے۔

چیف جسٹس کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ریاستی اداروں کے اختیارات آئینی حدود سے منسلک ہیں۔ ان کے مطابق آئین کے تحت قائم ہونے والے اداروں کی قانونی حیثیت اور اختیار اسی آئینی فریم ورک سے آتا ہے، اس لیے آئینی حدود کی پابندی ریاستی نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے سرکاری پیغام میں بھی آزادی، دیانت داری، شفافیت اور قانون کے مطابق فیصلوں کو عدالتی ذمہ داریوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے عدالتی کارروائی میں انصاف، شفافیت اور قانونی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔

VoS LAW & JUSTICE INSIGHT

نئے عدالتی سال کا آغاز وفاقی آئینی عدالت کے لیے ایک ایسے مرحلے میں ہوا ہے جب یہ ادارہ اپنے ابتدائی سال میں آئینی مقدمات اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کے خطاب میں آئین کی بالادستی، عدالتی آزادی، بنیادی حقوق اور عوامی اعتماد کو مرکزی اہمیت دی گئی۔

آنے والے عدالتی سال میں وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے یہ واضح کریں گے کہ آئینی تشریح اور ریاستی اداروں کے اختیارات سے متعلق اس کے کردار کا عملی دائرہ کس طرح تشکیل پاتا ہے۔ عدالت کی جانب سے آئینی حدود اور قانون کی حکمرانی پر زور اس کے سرکاری طور پر بیان کردہ عدالتی کردار کا بنیادی حصہ ہے۔

Source: Federal Constitutional Court of Pakistan, Dawn, The News.

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس