اسلام آباد ہائیکورٹ کا 87 افغان طلبہ کے ویزا معاملے پر وزارتِ داخلہ کو 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ کا 87 افغان طلبہ کے ویزا معاملے پر وزارتِ داخلہ کو 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم

VoS NEWS DESK | IMMIGRATION LAW | 1 اکتوبر 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں 87 افغان طلبہ کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی، جن میں پاکستان کے تسلیم شدہ تعلیمی اداروں میں انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں زیرِ تعلیم طلبہ شامل ہیں۔

طلبہ نے اپنے اسٹڈی ویزوں میں توسیع اور پاکستان میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے قانونی تحفظ کی درخواست کی تھی۔

عدالت نے درخواست پر براہِ راست حتمی فیصلہ دینے کے بجائے اسے وزارتِ داخلہ کے سامنے ایک نمائندگی کے طور پر منتقل کردیا ہے۔ عدالت نے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ طلبہ کے پاکستان میں قیام کے معاملے پر 30 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے۔

یہ معاملہ ان افغان طلبہ کے لیے اہم ہے جو پاکستان میں اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ویزا مدت ختم ہونے یا توسیع میں تاخیر کی صورت میں طلبہ کے تعلیمی پروگرام متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔

درخواست آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی گئی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے درخواست کی سماعت کے بعد اسے وزارتِ داخلہ کے فیصلے کے لیے منتقل کردیا۔

اب وزارتِ داخلہ کو طلبہ کی درخواستوں، ان کے تعلیمی ریکارڈ اور پاکستان میں قیام سے متعلق متعلقہ قانونی و انتظامی معاملات کا جائزہ لینا ہوگا۔

30 دن کی مدت کے اندر وزارت کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد طلبہ کو اپنے ویزا اور قانونی قیام کے حوالے سے مزید وضاحت مل سکے گی۔

یہ کیس پاکستان میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کے لیے امیگریشن قوانین اور تعلیمی ویزا پالیسی کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جو اپنی ڈگری مکمل کرنے کے مراحل میں ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 87 افغان طلبہ کے ویزا اور قیام کا معاملہ اب وزارتِ داخلہ کے پاس ہے۔ عدالت نے وزارت کو 30 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ طلبہ کے لیے اگلا اہم مرحلہ وزارت کے فیصلے کا انتظار کرنا ہے۔

Source: Dawn؛ اسلام آباد ہائیکورٹ؛ وزارتِ داخلہ پاکستان۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس