VoS NEWS DESK | EDUCATION | 1 اکتوبر 2026
ضلع اٹک کے مختلف علاقوں میں 41 سرکاری اسکول اس صورتحال سے متاثر ہوئے ہیں۔ تعلیمی حکام کے مطابق 21 اسکول حضرو، 9 حسن ابدال، 7 فتح جنگ اور 2،2 اسکول اٹک اور جنڈ کی تحصیلوں میں شامل ہیں۔
ان اسکولوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے ہائی اسکول بھی شامل ہیں۔ اسکولوں کو مختلف اضلاع سے آنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے عارضی قیام اور آرام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اٹک میں تقریباً 30,700 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ایلیٹ فورس، اسپیشل برانچ اور پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس کے اہلکار شامل ہیں۔
سیکیورٹی انتظامات کے باعث اسکولوں میں معمول کی تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ طلبہ کو کلاس رومز میں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اسکول دوبارہ کھلنے کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔
والدین اور اساتذہ نے اسکولوں کی مسلسل بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی سال کے دوران کئی دنوں تک کلاسز معطل رہنے سے طلبہ کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہوسکتا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اٹک میں سیکیورٹی انتظامات میں اضافہ کیا گیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو ہونے والا مارچ بھی 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا، تاہم متاثرہ اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں فوری طور پر بحال نہیں ہوسکیں۔
اسکولوں کی عمارتوں کو سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے استعمال کرنے کا مقصد انتظامی ضرورت پوری کرنا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم متاثر ہونے کا معاملہ بھی اہم بن گیا ہے۔
تعلیمی حکام کے لیے اب ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ سیکیورٹی ضروریات اور تعلیمی سرگرمیوں دونوں کو کس طرح برقرار رکھا جائے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
اٹک کے 41 اسکولوں کی بندش نے سیکیورٹی انتظامات اور طلبہ کے تعلیمی تسلسل کے درمیان پیدا ہونے والے عملی مسئلے کو نمایاں کیا ہے۔ مسلسل بندش کی صورت میں طلبہ کے تعلیمی شیڈول اور نصاب کی تکمیل پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
Source: Dawn؛ ضلعی محکمہ تعلیم اٹک؛ مقامی انتظامیہ۔
