کالم
مرکزی صفحہ پر واپس
"یوریشیا کا محور: علاقائی روابط اور پاکستان کی جیو-اکنامک پوزیشننگ"
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست کا رخ اب جیو-پولیٹکس (سیاسی تسلط) سے بدل کر جیو-اکنامکس (معاشی روابط) کی طرف منتقل ہو رہا ہے، اور اس بدلتے ہوئے منظر نامے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے درمیان ایک قدرتی پل بناتی ہے۔ ماضی میں پاکستان کو ایک سیکیورٹی ریاست یا محض ایک بفر زون کے طور پر دیکھا جاتا رہا، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اسلام آباد اپنی اس سٹریٹجک لوکیشن کو ایک عظیم معاشی محرک (Economic Hub) کے طور پر استعمال کرے۔ یوریشیا کے اس ابھرتے ہوئے معاشی بلاک میں پاکستان کا کردار خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا دوسرا مرحلہ اس جیو-اکنامک وژن کا سب سے اہم ستون ہے۔ اب یہ منصوبہ صرف سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے تحت قائم ہونے والے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) ملکی صنعت کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، وسطی ایشیائی ریاستوں (CARS) کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی روابط اور گوادر پورٹ کے ذریعے سمندر تک ان ممالک کی رسائی، خطے میں ایک نئے تجارتی دور کا آغاز کر رہی ہے۔ یہ روابط نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں خوشحالی لانے کا باعث بنیں گے۔
تاہم، اس عظیم جیو-اکنامک خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے داخلی استحکام، امن و امان اور پالیسیوں کا تسلسل پہلی شرط ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بیوروکریسی کے نظام کو سہل بنانا اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر معاشی مفادات کے تابع کرنا ہوگا، جہاں دشمنیوں کے بجائے تجارتی شراکت داریوں کو فروغ دیا جائے۔ اگر ہم داخلی چیلنجز پر قابو پا کر اپنے اس سٹریٹجک وژن پر ثابت قدمی سے کاربند رہیں، تو پاکستان کو خطے کی سب سے بڑی معاشی گزرگاہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
