کالم
مرکزی صفحہ پر واپس
"سستی شمسی توانائی، نیٹ میٹرنگ اور مڈل کلاس کا معاشی تحفظ"
پاکستان کا تنخواہ دار اور متوسط طبقہ اس وقت ملکی تاریخ کے بدترین معاشی دباؤ سے گزر رہا ہے، جہاں مہنگائی کی بلند شرح، نئے ٹیکسوں کے بوجھ اور پے در پے آئی ایم ایف کے سخت ترین مطالبات نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ایسے میں شدید گرمی کے اس موسم میں بجلی کے ناقابلِ برداشت بلوں نے عام شہری کے لیے جینا محال کر دیا ہے۔ اس تاریک معاشی منظرنامے میں گزشتہ ایک دو برسوں کے دوران 'سولرائزیشن' (شمسی توانائی) اور نیٹ میٹرنگ کے نظام نے مڈل کلاس کے لیے ایک واحد اور بڑی امید کی کرن کا کام کیا تھا، جس کے سہارے لوگوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر بجلی کے بھاری بلوں سے نجات پانے کی کوشش کی۔ تاہم، حالیہ دنوں میں نیٹ میٹرنگ کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیوں، سولر پر نئے ٹیکسوں کی افواہوں اور ٹیرف کم کرنے کی بحث نے عوام میں ایک نئی تشویش اور شدید بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔
بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کی نااہلی، لائن لاسز اور آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے ناقص معاہدوں کا خمیازہ ہمیشہ سے عام صارفین ہی بھگتتے آئے ہیں۔ اب جب مڈل کلاس نے اپنی مدد آپ کے تحت سولر پینلز لگا کر گرڈ پر بوجھ کم کیا اور کلین انرجی کی طرف پیش قدمی کی، تو ریاستی اداروں کی جانب سے اس پر سہولت دینے کے بجائے نیٹ میٹرنگ کے نرخوں کو کم کرنے یا اسے ختم کرنے کی باتیں کرنا انتہائی افسوسناک اور غیر منطقی ہے۔ یہ سوچ نہ صرف ملک میں متبادل اور سستی توانائی کے فروغ کو مستقل طور پر مفلوج کر دے گی، بلکہ شہریوں کا ریاستی پالیسیوں اور طویل مدتی سرمایہ کاری پر سے اعتماد بھی ہمیشہ کے لیے اٹھ جائے گا۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سولر نیٹ میٹرنگ کوئی عیاشی نہیں، بلکہ یہ متوسط طبقے کا اپنے معاشی وجود کو بچانے کا ایک دفاعی حربہ ہے۔
پاکستانی معیشت اور توانائی کے شعبے کو اس وقت کسی نئے تجربے یا عوام دشمن پالیسی کی نہیں، بلکہ ایک مستحکم، شفاف اور پائیدار انرجی ماڈل کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ نیٹ میٹرنگ کے موجودہ قوانین کو چھیڑنے اور مڈل کلاس پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے، سرکاری محکموں کی بجلی چوری روکنے اور آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں پر نظرثانی کرنے جیسے اصل مسائل پر توجہ مرکوز کرے۔ شمسی توانائی کے شعبے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا ٹیکسیشن پاکستان کے گرین انرجی کے اہداف کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی۔ اگر ریاست واقعی معاشی استحکام اور عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے، تو اسے مڈل کلاس کے اس معاشی تحفظ کو برقرار رکھنا ہوگا، ورنہ توانائی کا یہ بحران ایک بڑے سماجی اور معاشی دھماکے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
