"ثالثی کا میٹرکس: تہران مشن اور علاقائی سلامتی کاریڈور میں پاکستان کا تزویراتی مفاد"

 بدلتی ہوئی جیو-پولیٹیکل صورتحال اور پاک-افغان سرحد پر ابھرتے ہوئے نئے چیلنجز کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ اہم سفارتی مشن محض ایک روایتی یا علامتی دورہ نہیں ہے، بلکہ یہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے، مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے اثرات کو روکنے اور پاکستان کی مغربی سرحدوں پر سیکورٹی کے حصار کو مضبوط کرنے کی ایک انتہائی سوچی سمجھی کڑی ہے۔ تہران اور خلیجی ممالک کے درمیان ابھرتے ہوئے نئے سفارتی توازن، اور دوسری طرف خطے میں سرگرم غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بارڈر سیکورٹی کو نشانہ بنانے کی کوششوں نے اسلام آباد کو ایک ایسے پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے جہاں متحرک، پیشگی اور گہری سفارت کاری ہی قومی مفادات کے تحفظ کا واحد راستہ ہے۔

اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا تزویراتی اور سٹریٹجک مفاد اس بنیادی نقطے پر قائم ہے کہ خطے میں کسی بھی نئی جنگ یا بڑے تصادم کا راستہ روکا جائے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ یا ہمسائیگی میں لگی کوئی بھی آگ براہِ راست پاکستان کی نازک معیشت، سپلائی چین اور توانائی کے اہم منصوبوں کو شدید متاثر کرے گی۔ وزیرِ داخلہ کا تہران کا دورہ اس تزویراتی حقیقت کا کھلا اعتراف ہے کہ ایران کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیے بغیر اور بارڈر مینجمنٹ کے دوطرفہ معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد کیے بغیر، بلوچستان کی ساحلی پٹی، گوادر پورٹ اور سی پیک کے مغربی روٹ کو بیرونی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گردی سے مستقل طور پر محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔

پاکستان اس وقت خطے میں ایک انتہائی پیچیدہ اور کثیرالجہتی "میڈیشن میٹرکس" (ثالثی کے نیٹ ورک) پر عمل پیرا ہے، جہاں اس کا ہدف محض اپنے جغرافیائی حدود کا دفاع کرنا نہیں، بلکہ برادر اسلامی ممالک اور علاقائی طاقتوں کے درمیان جیو-پولیٹیکل خلیج کو پاٹ کر ایک ذمہ دار، جیو-اکنامک قوت کا کردار ادا کرنا ہے۔ تہران کے ساتھ سرحدی اور دفاعی تعاون کو مروجہ سفارتی توازن کے ساتھ آگے بڑھانا پاکستان کی سٹریٹجک خودمختاری کو برقرار رکھنے اور علاقائی تجارتی رابطوں (Regional Connectivity) کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ناگزیر ہے، تاکہ پاکستان مستقبل کے علاقائی اقتصادی کاریڈور کا ایک محفوظ اور مرکزی محور بن کر ابھر سکے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس