پاکستان نے جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے نئے ماحولیاتی منصوبوں کا اعلان کر دیا

VoS NEWS DESK | پاکستان | 6 اگست 2026

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق نئے منصوبوں کے تحت مختلف صوبوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات شروع کی جائیں گی تاکہ جنگلات کے مجموعی رقبے میں اضافہ ہو اور فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے علاقوں میں خصوصی توجہ دی جائے گی جہاں غیر قانونی کٹائی، جنگلات کی تباہی یا ماحولیاتی دباؤ کے باعث قدرتی ماحول کو نقصان پہنچا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید سیٹلائٹ مانیٹرنگ، جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS) اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگلات کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے۔

منصوبے کا ایک اہم حصہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق ہے۔ پاکستان میں پائے جانے والے نایاب جانوروں، پرندوں، آبی حیات اور پودوں کی مختلف اقسام کو محفوظ بنانے کے لیے قومی پارکس، محفوظ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے مراکز کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق حیاتیاتی تنوع کسی بھی قدرتی نظام کی مضبوطی اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر جنگلی حیات اور قدرتی مساکن محفوظ رہیں تو زرعی پیداوار، آبی وسائل اور انسانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ان منصوبوں کے تحت مقامی آبادیوں، کسانوں، تعلیمی اداروں اور ماحولیاتی تنظیموں کو بھی شجرکاری اور تحفظِ ماحول کی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا۔ مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں آگاہی مہمات چلائی جائیں گی تاکہ شہری درخت لگانے، پانی کے مؤثر استعمال، پلاسٹک کے کم استعمال اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو اپنانے کی اہمیت سے آگاہ ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوتے بلکہ عوامی شمولیت ہی کسی بھی ماحولیاتی پروگرام کی اصل کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق ماحولیات میں سرمایہ کاری صرف قدرتی وسائل کے تحفظ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس سے سیاحت، زراعت، آبی ذخائر، روزگار اور مقامی معیشت کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ قدرتی آبی نظام کو محفوظ رکھنے سے خشک سالی اور سیلاب جیسے خطرات سے نمٹنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں گرین اکانومی اور ماحول دوست ترقیاتی منصوبوں کو مستقبل کی معاشی پالیسیوں کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ، غیر متوقع بارشیں، گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار اور آبی وسائل پر دباؤ جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور جدید ماحولیاتی نگرانی نہ صرف ماحول بلکہ قومی سلامتی، خوراک کی پیداوار اور عوامی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے ان منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ پاکستان کو زیادہ سرسبز، محفوظ اور ماحول دوست ملک بنایا جا سکے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

ماہرین کے مطابق جنگلات کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، جدید ماحولیاتی نگرانی، گرین ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور عوامی شمولیت مستقبل میں پاکستان کی پائیدار ترقی کے بنیادی ستون ثابت ہوں گے۔ اگر ان منصوبوں پر مستقل مزاجی کے ساتھ عملدرآمد جاری رہا تو نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات میں کمی لائی جا سکے گی بلکہ قدرتی وسائل کا تحفظ، زرعی استحکام، صاف ماحول اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر معیارِ زندگی بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ ماحول دوست پالیسیاں پاکستان کی اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی ترقی کو ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔

Source: VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس