VoS NEWS DESK | سائنس، ٹیکنالوجی & خلائی تحقیق | پاکستان
پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (SUPARCO) ملک کے خلائی پروگرام میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے مقامی طور پر تیار کیے گئے مختلف سیٹلائٹس کے ذریعے زمین کے مشاہدے، ماحولیاتی نگرانی اور قومی منصوبہ بندی کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھایا ہے۔
نئے پاکستان اسپیس سینٹر کے منصوبے کو سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) نے تقریباً 37.13 ارب روپے کی لاگت کے ساتھ مزید منظوری کے لیے ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ECNEC) کو بھیج دیا ہے۔ اس منصوبے کو پاکستان کی مقامی سیٹلائٹ ڈویلپمنٹ صلاحیت میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان کے خلائی پروگرام کا ایک اہم مقصد بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی سطح پر سیٹلائٹ ڈیزائن، تیاری، ٹیسٹنگ اور دیگر خلائی نظام کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے SUPARCO پہلے ہی سیٹلائٹ پروگرامز اور تحقیق کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔
اپریل 2026 میں پاکستان نے اپنا مقامی EO-3 الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ بھی کامیابی سے خلا میں روانہ کیا تھا۔ یہ سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے کے لیے جدید امیجنگ صلاحیتوں کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور اس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا پروسیسنگ سمیت تجرباتی ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔
EO-3 جیسے سیٹلائٹس پاکستان کے لیے صرف خلائی تحقیق تک محدود نہیں بلکہ ان کے ذریعے شہری منصوبہ بندی، قدرتی آفات سے نمٹنے، زرعی نگرانی، خوراک کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس طرح خلائی ٹیکنالوجی کو براہِ راست قومی ترقی کے مختلف شعبوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی EO-2 سمیت دیگر مقامی سیٹلائٹس کے ذریعے اپنی زمین کے مشاہدے کی صلاحیت میں اضافہ کر چکا ہے۔ EO-2 کو SUPARCO کے سیٹلائٹ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر میں مقامی تحقیق اور سسٹمز انجینئرنگ کے ذریعے تیار کیا گیا تھا۔
نئے اسپیس سینٹر کا قیام مستقبل میں پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز کو جدید خلائی ٹیکنالوجی پر کام کرنے کے لیے مزید مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ مقامی سیٹلائٹ ڈویلپمنٹ کی صلاحیت میں اضافے سے پاکستان کو اپنے قومی اور سائنسی مقاصد کے لیے خلائی ڈیٹا زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
خلائی تحقیق کے ساتھ ساتھ پاکستان کا قومی خلائی پروگرام زراعت، موسمیاتی نگرانی، پانی کے وسائل، شہری منصوبہ بندی اور قدرتی آفات سے نمٹنے جیسے شعبوں میں بھی سیٹلائٹ ڈیٹا کے استعمال پر توجہ دیتا ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان اسپیس سینٹر کا منصوبہ ملک کے خلائی اور سائنسی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر منصوبے کو مؤثر انداز میں مکمل کیا گیا تو پاکستان میں سیٹلائٹ کی مقامی تیاری، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ اس سے ملک کو مستقبل میں خلائی ٹیکنالوجی میں زیادہ خود انحصاری حاصل کرنے اور سائنسی تحقیق کو قومی ترقی کے ساتھ جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماخذ: VoS News Desk
