پاکستان نے بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں ایک طلائی اور دو چاندی کے تمغے جیت لیے

VoS NEWS DESK | سائنس و تعلیم | 9 اگست 2026

انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کا تیسرا ایڈیشن سعودی عرب کے شہر جدہ میں 2 سے 8 اگست تک منعقد ہوا۔ عالمی سطح کے اس مقابلے میں تقریباً 120 طلبہ اور ماہرین نے شرکت کی، جبکہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ٹیموں نے نیوکلیئر سائنس، طبیعیات اور متعلقہ سائنسی شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

اس عالمی مقابلے میں مجموعی طور پر 19 ممالک شریک ہوئے، جن میں چین، جاپان، روس، ترکیہ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک شامل تھے۔ ایسے بڑے بین الاقوامی مقابلے میں پاکستانی طلبہ کی نمایاں کامیابی کو ملک کے لیے ایک اہم سائنسی اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستانی ٹیم کی تیاری اور تربیت پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر اہتمام کی۔ ٹیم کے انتخاب کے لیے پاکستان نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کے ذریعے نوجوان طلبہ کی علمی اور سائنسی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے محمد علی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ محمد علی کا تعلق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔ ان کی کامیابی پاکستانی ٹیم کے لیے سب سے نمایاں اعزاز رہی۔

اسی طرح محمد عثمان، جو ایف جی سر سید کالج دی مال راولپنڈی سے تعلق رکھتے ہیں، نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ کراچی کے نکسور کالج کی طالبہ سیرت فاطمہ نے بھی چاندی کا تمغہ جیت کر پاکستانی ٹیم کی مجموعی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستانی وفد میں سید شجاع حیدر بھی شامل تھے، جنہوں نے لاہور کے سندر STEM اسکول کی نمائندگی کی۔ ٹیم کے ارکان نے مختلف سائنسی مراحل میں اپنی معلومات، تجزیاتی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی مہارتوں کا مظاہرہ کیا۔

نیوکلیئر سائنس موجودہ دور میں صرف توانائی تک محدود نہیں رہی بلکہ طب، کینسر کے علاج، طبی تشخیص، زراعت، صنعت، خوراک کے تحفظ اور سائنسی تحقیق جیسے کئی شعبوں میں استعمال ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں نوجوان طلبہ کو نیوکلیئر سائنس اور متعلقہ جدید ٹیکنالوجیز کی تعلیم دینے پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

ایسے اولمپیاڈز نوجوانوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کے طلبہ اور ماہرین سے سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس سے طلبہ میں تحقیق، تخلیقی سوچ اور سائنسی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت مزید مضبوط ہوتی ہے۔

پاکستان کے لیے اس کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ملک کو 2027 میں چوتھے انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی سونپی گئی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہوگا کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک سے نوجوان سائنسدانوں اور طلبہ کی میزبانی کرے اور اپنے سائنسی و تعلیمی اداروں کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستانی طلبہ کی بین الاقوامی نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ میں کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ ملک میں نوجوان سائنسی ٹیلنٹ موجود ہے اور اسے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ ایک طلائی اور دو چاندی کے تمغے نہ صرف طلبہ کی محنت کا نتیجہ ہیں بلکہ پاکستان میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور تحقیق کے فروغ کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ 2027 میں اولمپیاڈ کی میزبانی پاکستان کے لیے نوجوان سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی اور عالمی سائنسی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

Source: VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس