دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
ایئر فرانس اور ایئرباس کو 2009 کے طیارے کے حادثے میں قتل غیر ارادی کا مجرم قرار دیا گیا
پیرس کی اپیل کورٹ نے 21 مئی 2026 کو ایئر فرانس اور ایئرباس کو 2009 کے ریو-پیرس طیارے کے حادثے میں قتل غیر ارادی کا مجرم قرار دیا ہے، جس میں 228 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ فیصلہ 17 سال کے قانونی تنازعہ کے بعد آیا ہے اور ایئرباس اور ایئر فرانس کے لیے ایک اہم شکست ہے۔ کورٹ نے فیصلہ کیا کہ دونوں کمپنیوں نے طیارے کی تکنیکی خرابیوں اور پائلٹوں کی تربیت میں کمی کے بارے میں مناسب انتباہات فراہم نہیں کیے۔ یہ فیصلہ ایک سنگ میل ہے کیونکہ یہ بڑی کمپنیوں کو ہوائی حادثات کے لیے ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔
حادثہ 1 جون 2009 کو اٹلانٹک سمندر میں ہوا تھا جب ایئر فرانس کی پرواز AF447 ریو ڈی جنیرو سے پیرس جا رہی تھی۔ طیارے میں تکنیکی خرابی اور پائلٹوں کی غلط فیصلہ سازی کے نتیجے میں یہ حادثہ ہوا۔ کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایئرباس نے طیارے کی خرابیوں کے بارے میں مناسب معلومات فراہم نہیں کیے، اور ایئر فرانس نے پائلٹوں کو مناسب تربیت نہیں دی۔ یہ فیصلہ ہوائی سفر کی حفاظت کے معاملات میں ایک اہم پیشرفت ہے اور مستقبل میں ہوائی کمپنیوں کو زیادہ احتیاط سے کام کرنے پر مجبور کرے گا۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
