VoS NEWS DESK | LAW | 3 ستمبر 2026
یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے سابق کمشنر عظیم الدین زاہد کی درخواست پر سنایا۔ درخواست گزار نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2010 میں 2024 کی ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی دفعہ 6(1-A) کو چیلنج کیا تھا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ متنازعہ قانونی شق حکومت کو کمشنر کو مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے ہٹانے کا وسیع اختیار فراہم کرتی ہے، جبکہ اس اختیار کے استعمال کے لیے واضح قانونی معیار اور مناسب طریقہ کار موجود نہیں۔ عدالت نے مقدمے میں ریگولیٹری ادارے کی خودمختاری اور اس کے سربراہ کی مدتِ ملازمت کے قانونی تحفظ کا جائزہ لیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایک عام سرکاری محکمہ نہیں بلکہ ایک خودمختار ریگولیٹری ادارہ ہے۔ کمیشن کو صوبے میں صحت کی سہولیات کے معیار کی نگرانی، طبی اداروں کے معائنے، لائسنسنگ، تحقیقات اور مختلف خلاف ورزیوں پر کارروائی سمیت اہم اختیارات حاصل ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے مطابق ایسے ادارے کی مؤثر اور غیر جانب دارانہ کارکردگی کے لیے اس کے کمشنرز کو غیر ضروری حکومتی مداخلت سے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی کمشنر کو بغیر واضح وجہ، قانونی معیار یا مؤثر سماعت کے عہدے سے ہٹانے کا اختیار حاصل ہو تو اس سے ادارے کی آزادی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کمشنر کی مقررہ مدت کا تحفظ صرف متعلقہ فرد کا ذاتی حق نہیں بلکہ ریگولیٹری ادارے کی ادارہ جاتی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق برطرفی کے لیے واضح اور قابلِ تعین وجوہات موجود ہونی چاہئیں تاکہ اختیارات کا استعمال من مانی بنیادوں پر نہ ہوسکے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ کسی کمشنر کو عہدے سے ہٹانے سے قبل اسے برطرفی کی وجوہات سے آگاہ کرنا اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دینا قانونی انصاف کے بنیادی اصولوں کے مطابق ضروری ہے۔ اس تناظر میں عدالت نے آئین کے آرٹیکل 4 اور آرٹیکل 10-A کے تحت قانونی تحفظ اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کا بھی جائزہ لیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ میں شامل دفعہ 6(1-A) کو آئین کے متعلقہ تقاضوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے آئین کے آرٹیکل 8 کے تحت اس حد تک کالعدم قرار دے دیا۔
درخواست گزار عظیم الدین زاہد کو 18 جولائی 2024 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ عدالت نے ان کی برطرفی کے معاملے کا بھی جائزہ لیا، تاہم چونکہ ان کی اصل تین سالہ مدتِ ملازمت دورانِ مقدمہ مکمل ہوچکی تھی، اس لیے عدالت نے انہیں عملی طور پر دوبارہ عہدے پر بحال کرنے کا حکم جاری نہیں کیا۔
اس فیصلے کی اہمیت صرف پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن تک محدود نہیں سمجھی جارہی بلکہ یہ دیگر خودمختار ریگولیٹری اداروں میں حکومتی اختیارات کے استعمال کے لیے بھی ایک اہم قانونی اصول سامنے لاتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اسے کسی بھی قانونی یا آئینی پابندی کے بغیر استعمال کرسکتی ہے۔
فیصلہ اس وسیع تر قانونی اصول کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ریاستی اداروں کے سربراہان کی تقرری اور برطرفی کے معاملات میں شفافیت، مقررہ مدت، قانونی جواز اور منصفانہ طریقہ کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس طرح کے اصول ریگولیٹری اداروں کو سیاسی یا انتظامی دباؤ سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
VoS LAW INSIGHT
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ریگولیٹری اداروں کی خودمختاری، حکومتی اختیارات کی آئینی حدود اور منصفانہ سماعت کے حوالے سے اہم قانونی پیش رفت ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کسی خودمختار ادارے کے سربراہ کو مقررہ مدت کے دوران ہٹانے کے لیے واضح قانونی بنیاد اور مناسب طریقہ کار ہونا چاہیے۔
یہ فیصلہ مستقبل میں پنجاب کے دیگر خودمختار اور ریگولیٹری اداروں کے سربراہان کی تقرری، مدتِ ملازمت اور برطرفی سے متعلق مقدمات میں بھی ایک اہم قانونی حوالہ بن سکتا ہے۔
ماخذ: لاہور ہائیکورٹ / دنیا نیوز / وی نیوز / پاکستانی میڈیا رپورٹس / VoS News Desk.
