VoS NEWS DESK | صحت و سلامتی
پی ایم ڈی سی کے مطابق ہاؤس جاب کے دوران ڈاکٹرز کو آگ لگنے کی صورت میں مریضوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے، فائر ہیزرڈز کی نشاندہی کرنے، فائر ایکسٹنگوشر استعمال کرنے اور ایمرجنسی کی صورت میں فوری رابطہ کاری کے طریقہ کار کی باقاعدہ تربیت دی جائے گی۔ میڈیکل کالجز اور تدریسی اسپتالوں میں باقاعدگی سے فائر سیفٹی ڈرلز اور انخلا کی مشقیں بھی کرائی جائیں گی۔
یہ فیصلہ 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال میں لگنے والی آگ کے بعد سامنے آیا، جس میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ ابتدائی تحقیق میں اسپتال کے فائر ایمرجنسی نظام، تربیت اور حفاظتی انتظامات میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی بھی شروع کی گئی۔
پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ صرف ہاؤس آفیسرز تک یہ تربیت محدود رکھنے کے بجائے مستقبل میں میڈیکل طلبہ، پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے تک بھی فائر سیفٹی پروگرام کو وسعت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں طبی عملہ گھبراہٹ کے بجائے واضح طریقہ کار کے تحت مریضوں اور عملے کی جان بچانے کے اقدامات کر سکے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پمز کا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کے ساتھ ایمرجنسی رسپانس اور فائر سیفٹی کا مضبوط نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ خاص طور پر نومولود بچوں، آئی سی یو مریضوں اور ایسے افراد کے لیے فوری انخلا انتہائی مشکل ہوتا ہے جو خود حرکت نہیں کر سکتے۔
فائر ڈرلز کو محض رسمی کارروائی کے بجائے اسپتالوں کے روزمرہ حفاظتی نظام کا حصہ بنانا ہوگا۔ تربیت یافتہ عملہ، واضح انخلا کے راستے، فائر الارم، اسپنکلر سسٹم اور بروقت ایمرجنسی رسپانس مستقبل میں بڑے جانی نقصان کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حتمی بات: پمز سانحے کے بعد فائر سیفٹی ٹریننگ کا لازمی ہونا ایک اہم قدم ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ہر اسپتال میں ان حفاظتی اقدامات پر عملی طور پر مسلسل عمل بھی یقینی بنایا جائے۔
Source: Dawn, Pakistan Medical & Dental Council, Tribune — VoS News Desk.
