VoS NEWS DESK | معیشت اور ٹیکنالوجی | 24 اگست 2026
پاکستان نے کرپٹو اور ورچوئل اثاثوں کے شعبے کو ریگولیٹ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی ہے، جس کے تحت ملک میں پہلے سے کام کرنے والے ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے باقاعدہ این او سی حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ آپریٹرز کو 5 ستمبر 2026 تک این او سی کے لیے درخواست جمع کرانی ہوگی۔ جو ادارے مقررہ وقت تک درخواست نہیں دیں گے، انہیں اپنی سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی۔
PVARA کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق یہ اقدام ورچوئل اثاثوں کے شعبے کو زیادہ منظم، شفاف اور قانونی دائرے میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
نئے ریگولیٹری نظام کے تحت ورچوئل اثاثوں سے متعلق کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے مقررہ قانونی اور مالیاتی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
اتھارٹی کے مطابق وہ ادارے جو 5 مارچ 2026 یا اس سے پہلے سے کام کر رہے تھے، انہیں عبوری زمرے کے تحت این او سی کے لیے درخواست دینا ضروری ہے۔
این او سی کا عمل کاروباری منصوبے اور متعلقہ کارپوریٹ دستاویزات جمع کرانے سے شروع ہوگا، جس کے بعد اتھارٹی درخواست کا جائزہ لے گی اور ابتدائی منظوری یا دیگر ریگولیٹری کارروائی کرے گی۔
پاکستان میں کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے حوالے سے یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ حکومت ایک ایسے شعبے کو باقاعدہ نظام میں لانے کی کوشش کر رہی ہے جو طویل عرصے تک بڑی حد تک غیر منظم رہا ہے۔
نئے نظام کا مقصد صارفین کو بہتر تحفظ فراہم کرنا، غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے خطرات کم کرنا اور ورچوئل اثاثہ مارکیٹ میں شفافیت پیدا کرنا بھی ہے۔
PVARA نے واضح کیا ہے کہ جو موجودہ آپریٹرز مقررہ مدت میں این او سی کے لیے درخواست نہیں دیں گے، انہیں پاکستان میں اپنی ورچوئل اثاثہ سروسز جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ اقدام پاکستان کے ڈیجیٹل فنانس اور ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، کیونکہ مستقبل میں کرپٹو ایکسچینجز، بروکرز اور دیگر ورچوئل اثاثہ سروسز کو باقاعدہ نگرانی کے تحت کام کرنا ہوگا۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان کا کرپٹو ریگولیٹری نظام کی طرف بڑھنا ملک کے مالیاتی اور ٹیکنالوجی شعبے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ واضح قوانین اور نگرانی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کر سکتی ہے اور ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروبار کے لیے ایک قانونی ماحول فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ ریگولیٹری نظام کس حد تک شفاف، مؤثر اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے قابلِ عمل ثابت ہوتا ہے۔
Source: PVARA / Dawn / VoS News Desk
