VoS NEWS DESK | معیشت و تجارت | 16 SEPTEMBER 2026
وزیراعظم کی میری ٹائم ریفارمز ٹاسک فورس کے تحت پاکستان کے بندرگاہی نظام میں متعدد اصلاحات پر کام جاری ہے۔ جولائی 2026 تک ٹاسک فورس کے 99 میں سے 84 اصلاحاتی اقدامات مکمل کیے جا چکے تھے، جن کا مقصد بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانا، تجارتی رکاوٹیں کم کرنا اور پاکستان کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔
ان اصلاحات میں Faceless Assessment System کو اہم قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے کسٹمز کے عمل کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سرکاری ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سنگل ونڈو اور فیس لیس کسٹمز اسیسمنٹ کے استعمال سے کارگو کلیئرنس کا اوسط وقت تقریباً 53 گھنٹے سے کم ہو کر 18 گھنٹے رہ گیا ہے۔
کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم میں بھی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ جولائی میں حکام نے بتایا تھا کہ کراچی پورٹ عالمی درجہ بندی میں 99ویں سے 69ویں پوزیشن پر آیا، جبکہ پورٹ قاسم کی پوزیشن میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اسی عرصے میں کراچی پورٹ نے تقریباً 55.8 ملین ٹن جبکہ پورٹ قاسم نے 47 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا۔
ڈیجیٹل کسٹمز نظام کے ذریعے درآمدی اور برآمدی سامان کی کلیئرنس کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ ریونیو وصولیوں کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق جدید کارگو مینجمنٹ سسٹم کا مقصد بندرگاہوں سے اندرونِ ملک سامان کی منتقلی کو زیادہ منظم بنانا ہے۔
میری ٹائم سیکٹر میں اصلاحات کا ایک بڑا مقصد پاکستان کی بندرگاہوں کو خطے کی تجارت کے لیے زیادہ مسابقتی بنانا ہے۔ حکومت کی جانب سے نیشنل شپنگ پالیسی، ٹرانس شپمنٹ پالیسی، بندرگاہوں کی توسیع اور ڈریجنگ سمیت مختلف اقدامات پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
جنوری 2026 میں وزارتِ میری ٹائم افیئرز نے بھی بتایا تھا کہ اصلاحات کے بعد 2025 میں میری ٹائم سیکٹر نے 100 ارب روپے کا منافع ریکارڈ کیا، جبکہ کراچی پورٹ نے 54 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا۔ وزارت کے مطابق ڈیجیٹلائزیشن اور پورٹ کمیونٹی سسٹم کو پاکستان سنگل ونڈو سے منسلک کرنا بھی اصلاحاتی عمل کا اہم حصہ ہے۔
VoS ECONOMIC INSIGHT
بندرگاہی نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کا براہِ راست تعلق تجارت کی رفتار، کسٹمز کلیئرنس، کاروباری لاگت اور حکومتی ریونیو سے ہے۔ تاہم اصلاحات کے طویل مدتی نتائج کا انحصار ان نظاموں کے مستقل نفاذ، اداروں کے درمیان رابطے اور بندرگاہی انفراسٹرکچر میں مزید سرمایہ کاری پر ہوگا۔
Sources: Pakistan Press Information Department, Radio Pakistan, The Nation, Arab News Pakistan.
