VoS NEWS DESK | BUSINESS & ECONOMY | 2 اکتوبر 2026
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا تھا اور KSE-100 انڈیکس ابتدائی مرحلے میں 170,000 کی سطح سے اوپر پہنچ گیا، تاہم بعد میں مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھتا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 1,332.47 پوائنٹس، یعنی 0.78 فیصد کمی کے ساتھ 168,636.85 پر بند ہوا۔
دن کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 170,688.38 جبکہ کم ترین سطح 168,567.79 ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری دن کے آغاز میں سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری دیکھی گئی۔ مارکیٹ ابتدائی طور پر تقریباً 300 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 170,000 سے اوپر چلی گئی، تاہم بعد میں سرمایہ کاروں نے حصص فروخت کرنا شروع کیے۔
مارکیٹ میں موجود فروخت کے دباؤ نے ابتدائی تیزی کو ختم کردیا اور دن کے اختتام تک انڈیکس نمایاں کمی کے ساتھ بند ہوا۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار عالمی اور ملکی معاشی عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
مارکیٹ پر دباؤ ڈالنے والے اہم عوامل میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ بھی شامل رہا۔
رپورٹ کے مطابق کاروباری سیشن کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ ہوا۔ چین کی جانب سے تیل کی مصنوعات کی برآمدات معطل کیے جانے کے بعد عالمی ایندھن مارکیٹ میں سپلائی سے متعلق خدشات بڑھے۔
پاکستان کے لیے عالمی تیل کی قیمتیں خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔
خام تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل بڑھنے، ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ آنے اور کاروباری لاگت میں اضافے کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔
مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان کی مہنگائی کے اعداد و شمار پر بھی رہی۔
ستمبر 2026 میں پاکستان کی سالانہ صارف مہنگائی 10.26 فیصد رہی، جو اگست میں 11.1 فیصد تھی۔ اگرچہ اگست کے مقابلے میں ستمبر میں سالانہ مہنگائی کم ہوئی، لیکن مجموعی شرح اب بھی اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے ہدف سے بلند رہی۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 1.3 فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔
مہنگائی کے اعداد و شمار اسٹاک مارکیٹ کے لیے اس لیے اہم ہیں کیونکہ قیمتوں میں مسلسل اضافہ کاروباری اخراجات، صارفین کی قوت خرید اور مستقبل کی مانیٹری پالیسی سے متعلق توقعات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران کئی بڑے حصص میں کمی نے KSE-100 انڈیکس پر دباؤ بڑھایا۔
Pakistan Petroleum Limited، UBL، Hub Power، OGDC اور Fauji Fertiliser ان کمپنیوں میں شامل رہے جنہوں نے مجموعی انڈیکس کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالا۔
دوسری جانب Kohinoor Textile، Services اور Attock Refinery سمیت کچھ کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا، جس نے مارکیٹ کو کچھ حد تک سہارا دیا۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ریڈی مارکیٹ میں 121 کمپنیوں کے حصص میں اضافہ، 323 میں کمی جبکہ 48 کمپنیوں کے حصص میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی۔
کاروباری دن کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 548.4 ملین حصص کا لین دین ہوا، جو گزشتہ روز کے 591.2 ملین حصص کے مقابلے میں کم تھا۔
Kohinoor Spinning حجم کے اعتبار سے نمایاں کمپنی رہی، جس کے تقریباً 93.8 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
مارکیٹ میں حصص کی بڑی تعداد میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کاروباری سیشن کے دوران فروخت کا دباؤ وسیع پیمانے پر موجود تھا۔
پاکستانی اسٹاک مارکیٹ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے بھی متاثر ہوئی۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع اور سفارتی کوششوں کے نتیجے سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔
اس کے ساتھ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی مارکیٹ کے خدشات میں اضافہ کیا۔
پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ملک میں عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ معیشت کے مختلف شعبوں کے لیے اہم ہوسکتا ہے، جس کے باعث سرمایہ کار عالمی تیل مارکیٹ کو بھی مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔
پاکستانی مارکیٹ کے لیے عالمی عوامل کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف پروگرام، معاشی اصلاحات، زرمبادلہ، شرح سود، مہنگائی اور حکومتی مالیاتی پالیسی بھی اہم موضوعات ہیں۔
حالیہ سیشنز میں آئی ایم ایف سے متعلق پیش رفت نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے، تاہم جمعرات کے سیشن میں عالمی تیل کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ پر دباؤ زیادہ نمایاں رہا۔
آنے والے کاروباری سیشنز میں سرمایہ کار عالمی خام تیل کی قیمتوں، امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی صورتحال، پاکستان کی مہنگائی، آئی ایم ایف سے متعلق پیش رفت اور ملکی معاشی اعداد و شمار پر نظر رکھیں گے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ پاکستان کے لیے درآمدی لاگت کا مسئلہ بڑھا سکتا ہے، جبکہ عالمی کشیدگی میں کمی مارکیٹ کے لیے مختلف معاشی توقعات پیدا کرسکتی ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلیاں متعدد عوامل کا مجموعہ ہوتی ہیں، اس لیے ایک سیشن کی کمی کو طویل مدتی مارکیٹ رجحان کا حتمی اشارہ نہیں سمجھا جاتا۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
KSE-100 میں 1,332.47 پوائنٹس کی کمی کے پیچھے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی سے متعلق خدشات اور امریکا-ایران صورتحال سے پیدا ہونے والی غیر یقینی کیفیت اہم عوامل رہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی توانائی مارکیٹ اور پاکستان کی معاشی پیش رفت اسٹاک مارکیٹ کے لیے اہم محرکات رہیں گے۔
Source: The Express Tribune؛ Pakistan Stock Exchange؛ سرکاری مہنگائی کے اعداد و شمار۔
