کوہاٹ پولیس لائنز حملہ، تقریباً 20 گھنٹے کا کلیئرنس آپریشن مکمل، 21 افراد جاں بحق

کوہاٹ پولیس لائنز حملہ، تقریباً 20 گھنٹے کا کلیئرنس آپریشن مکمل، 21 افراد جاں بحق

VoS NEWS DESK | پاکستان | 20 September 2026

حکام کے مطابق حملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک دھماکا خیز گاڑی کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد کے قریب دھماکے سے اڑا دی گئی۔ اس کے بعد مسلح حملہ آور پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے اور پولیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حملے کے وقت مسجد میں نماز کے لیے پولیس اہلکار اور دیگر افراد موجود تھے۔

دھماکے کے بعد پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، ایلیٹ فورس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں نے کمپاؤنڈ میں موجود حملہ آوروں کے خلاف کارروائی شروع کی۔ پولیس حکام کے مطابق کلیئرنس آپریشن رات بھر جاری رہا اور تقریباً 20 گھنٹے بعد مکمل کیا گیا۔

کلیئرنس کارروائی کے دوران پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے کمپاؤنڈ کے مختلف حصوں کو تلاش کیا۔ حکام کے مطابق آٹھ حملہ آور ہلاک ہوئے، جبکہ حملے کے بعد علاقے کو کلیئر قرار دیا گیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حملے میں 21 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں نے پولیس کمپاؤنڈ کے اندر مورچے سنبھال لیے تھے جس کے باعث سیکیورٹی فورسز کو طویل کارروائی کرنا پڑی۔

حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کیا اور پاکستانی حکام نے سرحد پار موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ افغانستان کی جانب سے حملے کی مذمت کی گئی ہے، جبکہ فوری طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت مختلف سیاسی اور حکومتی شخصیات نے حملے کی مذمت کی۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے بھی واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے اور زخمیوں کے علاج سے متعلق اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

کوہاٹ حملے کے بعد تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہنے والی سیکیورٹی کارروائی نے واقعے کی سنگینی کو نمایاں کیا۔ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے کمپاؤنڈ کے اندر موجود حملہ آوروں کے خلاف کارروائی مکمل کی، جبکہ حکام نے جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے بارے میں مختلف اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

حملے کی ذمہ داری کے حوالے سے ابھی حتمی طور پر کسی گروہ کا نام سامنے نہیں آیا۔ تحقیقات کے دوران حملہ آوروں کے نیٹ ورک، سہولت کاری اور حملے کے طریقۂ کار سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔

Source: The Express Tribune; Associated Press. 

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس