VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 19 September 2026
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ پُرامن اور آئینی جدوجہد ہوگا۔ ان کے مطابق شہریوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی اور سیاسی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔
PTI نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا ہے، جس میں پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی سمیت سیاسی مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا سے مرکزی قافلے کی تیاریوں اور دیگر علاقوں سے کارکنوں کی شرکت کے حوالے سے بھی پارٹی سرگرمیاں جاری ہیں۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کسی تصادم کی خواہش نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق احتجاج کو جمہوری اور آئینی طریقے سے آگے بڑھایا جائے گا اور شرکا کو قانون کے دائرے میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
18 ستمبر کو اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بھی 27 ستمبر کے مارچ کو پُرامن رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ملاقات میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں نے سیاسی صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی پر گفتگو کی۔
اس سے ایک روز قبل اپوزیشن اتحاد نے بھی اپنے اجلاس میں 27 ستمبر کے مارچ کو پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد قرار دیا تھا۔ اتحاد نے اس احتجاج کے ساتھ ساتھ دیگر جمہوری سیاسی قوتوں سے رابطے بڑھانے اور آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔
مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی مختلف علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ان کے قافلے کو پنجاب اور سندھ میں سفر کے دوران مختلف مقامات پر رکاوٹوں اور ٹریفک مسائل کا سامنا کرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
دوسری جانب وفاقی اور صوبائی انتظامیہ کے لیے 27 ستمبر کی سرگرمی کے دوران امن و امان برقرار رکھنا ایک اہم انتظامی معاملہ ہوگا۔ اسلام آباد میں احتجاج، عوامی نقل و حرکت اور سڑکوں کی دستیابی سے متعلق قانونی اور انتظامی معاملات پہلے ہی زیر بحث آ چکے ہیں۔
PTI قیادت نے بھی احتجاج کے پُرامن رہنے پر زور دیا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 18 ستمبر کو کہا کہ 27 ستمبر کا احتجاج پُرامن ہوگا اور شرکا سڑکیں بند نہیں کریں گے۔ انہوں نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی مارچ میں شرکت کی دعوت دی۔
27 ستمبر کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے رابطوں اور انتظامی فیصلوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ مارچ میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد، راستوں، سکیورٹی انتظامات اور احتجاج کے عملی طریقۂ کار سے متعلق تفصیلات بھی وقت کے ساتھ واضح ہوں گی۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے پُرامن احتجاج پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم احتجاج کی عملی صورتحال کا انحصار سیاسی قیادت کے فیصلوں، انتظامی انتظامات، قانونی صورتحال اور شرکا کے طرزِ عمل پر ہوگا۔
موجودہ صورتحال میں سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور انتظامیہ کے ساتھ معاملات اہم رہیں گے۔ 27 ستمبر کے قریب آنے والے دنوں میں مارچ کے راستے، سکیورٹی انتظامات، سیاسی شرکت اور دیگر عملی تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔
Source: The Express Tribune; The News Pakistan; Dawn.
