VoS NEWS DESK | LAW & SECURITY | 18 ستمبر 2026
حکام کے مطابق بم حملہ جمعرات کو ضلع ہنگو میں اس وقت پیش آیا جب سیکیورٹی فورسز کا قافلہ علاقے سے گزر رہا تھا۔ سڑک کنارے نصب IED کے دھماکے نے قافلے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 6 اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے گئے اور ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق اسی عرصے کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں بھی کی گئیں۔ شمالی وزیرستان میں ایک کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں فوج کے مطابق 6 عسکریت پسند مارے گئے۔
دوسری کارروائی ضلع ہنگو میں کی گئی جہاں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ ISPR کے مطابق اس کارروائی میں مزید 4 عسکریت پسند ہلاک ہوئے، جس کے بعد ان کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 10 ہوگئی۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
ان کارروائیوں کے ساتھ ہی سیکیورٹی فورسز کو ایک بڑا جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ IED حملے میں 6 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد متاثرہ علاقے میں کلیئرنس اور سرچ سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تاکہ مزید خطرات کا جائزہ لیا جاسکے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستانی حکام طویل عرصے سے ملک کے شمال مغربی علاقوں میں ہونے والے بعض حملوں کا الزام تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے وابستہ عسکریت پسندوں پر عائد کرتے رہے ہیں۔ TTP افغانستان میں موجود طالبان حکومت سے الگ تنظیم ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان تعلقات کی اطلاعات موجود ہیں۔ افغان طالبان حکام پاکستان کی جانب سے سرحد پار عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان کی سیکیورٹی فورسز عسکریت پسند گروہوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سرکاری بیانات کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا، ان کے نیٹ ورک کو محدود کرنا اور مزید حملوں کو روکنا ہے۔
خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع طویل عرصے سے عسکریت پسندی سے متاثر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان اور ہنگو سمیت مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز ماضی میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ موجودہ واقعات میں ایک ہی وقت میں سیکیورٹی فورسز پر IED حملہ اور عسکریت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائیاں سامنے آئی ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق کارروائیوں کے بعد علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس سرگرمیاں جاری رہیں تاکہ ممکنہ طور پر موجود دیگر عسکریت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کا سراغ لگایا جاسکے۔ تاہم عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں سے متعلق اعداد و شمار بنیادی طور پر فوجی ذرائع سے جاری کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ہر معاملے میں فوری طور پر دستیاب نہیں ہوتی۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
ہنگو میں قافلے پر IED حملہ اور شمالی وزیرستان و ہنگو میں سیکیورٹی آپریشنز خیبر پختونخوا میں جاری سیکیورٹی چیلنج کی مختلف صورتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک جانب سیکیورٹی اہلکاروں کو نقل و حرکت کے دوران بم حملوں کا خطرہ درپیش ہے، جبکہ دوسری جانب انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
Source: Associated Press, ISPR / Radio Pakistan, Dawn.
