VoS NEWS DESK | تعلیم و صحت | 16 SEPTEMBER 2026
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے ایم ڈی کیٹ اور ملک میں میڈیکل تعلیم سے متعلق مختلف پالیسی معاملات پر غور کیا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے کی، جبکہ کمیٹی کے ارکان اور متعلقہ حکام نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
اجلاس کے دوران کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیکل داخلوں کے نظام میں تبدیلیوں سے قبل طلبہ، والدین، تعلیمی اداروں، میڈیکل کالجز اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سمیت تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کی جائے۔ کمیٹی کے مطابق داخلہ پالیسی میں شفافیت اور واضح معیار طلبہ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ایم ڈی کیٹ کی مجموعی ویٹیج بھی اجلاس میں زیر بحث رہی۔ سینیٹ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے ایم ڈی کیٹ کے وزن میں کمی اور داخلہ نظام میں دیگر اصلاحات سے متعلق سفارشات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق امتحان سال میں دو مرتبہ منعقد کرنے اور داخلوں میں اس کے موجودہ وزن پر نظرثانی کی تجاویز بھی زیر غور رہی ہیں۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق MDCAT 2026 کو 20 ستمبر 2026 کو منعقد کیا جانا ہے۔ امتحان پہلے 16 اگست کے لیے مقرر کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اسے 20 ستمبر تک ملتوی کردیا گیا۔ PM&DC نے کہا تھا کہ تاریخ میں تبدیلی کا مقصد امتحان کے محفوظ، شفاف اور منظم انعقاد کو یقینی بنانا ہے۔
ایم ڈی کیٹ پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے اہم مراحل میں شامل ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں طلبہ اس امتحان میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں دستیاب نشستوں کی تعداد امیدواروں کے مقابلے میں محدود رہتی ہے۔ اسی وجہ سے امتحان کے معیار، میرٹ، ویٹیج اور داخلہ پالیسی میں معمولی تبدیلیاں بھی طلبہ کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کے نمبرز تعلیمی ریکارڈ اور دیگر داخلہ معیار کے ساتھ مجموعی میرٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر امتحان کی ویٹیج، انعقاد کی تعداد یا داخلہ فارمولے میں تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر میرٹ کیلکولیشن اور امیدواروں کی حکمت عملی پر پڑ سکتا ہے۔
سینیٹ کمیٹی کی تازہ بحث اسی وسیع تناظر میں اہم ہے، کیونکہ اس میں صرف ایک امتحان کے انعقاد کے بجائے مجموعی میڈیکل داخلہ نظام کو زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل بنانے کے پہلو بھی زیر بحث آئے ہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں کے درمیان مشاورت اور پالیسی فیصلوں میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر زور دیا ہے۔
پاکستان میں میڈیکل تعلیم اور داخلہ نظام سے متعلق بحث کئی برسوں سے جاری ہے۔ طلبہ کی بڑی تعداد، محدود میڈیکل نشستیں، مختلف صوبوں کے داخلہ طریقہ کار اور قومی سطح پر ایک معیاری امتحانی نظام ایسے موضوعات ہیں جن پر مختلف حلقوں کی جانب سے تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔
PM&DC کی جانب سے ایم ڈی کیٹ کے انتظامات اور رجسٹریشن سے متعلق معلومات بھی جاری کی جاتی رہی ہیں، جبکہ سینیٹ کی سطح پر پالیسی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
VoS EDUCATION INSIGHT
ایم ڈی کیٹ 2026 سے متعلق سینیٹ کمیٹی کی تازہ بحث نے پاکستان میں میڈیکل داخلوں کے نظام کو دوبارہ قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ آئندہ پالیسی فیصلوں میں امتحانی ویٹیج، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، امتحان کے انعقاد کے طریقہ کار اور میرٹ کے مجموعی فارمولے سے متعلق سفارشات اہم رہیں گی۔
طلبہ کے لیے فوری طور پر سب سے اہم معاملہ مقررہ 20 ستمبر 2026 کے ایم ڈی کیٹ کے انتظامات اور PM&DC کی جانب سے جاری ہونے والی حتمی ہدایات ہیں۔
Sources: Dawn، Senate of Pakistan، PM&DC، Pakistan Today
