"پارلیمنٹ کا شور اور کچن کی خاموش"

پاکستان کے سیاسی ایوانوں میں ہونے والی بحث اور عام آدمی کے کچن کی حقیقت میں اب میلوں کا فاصلہ ہو چکا ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر روزانہ ہونے والے مباحثوں اور ٹاک شوز کو دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کسی ایک رہنما کا بیان یا دوسرے کا عدالتی مقدمہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گلی محلوں میں رہنے والوں کی سب سے بڑی جنگ آٹے کے تھیلے کی قیمت اور بجلی کے بل کی ادائیگی ہے۔ سیاست اب مسائل کے حل کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسا تماشہ بن چکی ہے جہاں صرف ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کی حکمتِ عملی کام کر رہی ہے۔ نقصان یہ ہو رہا ہے کہ اس بے مقصد شور سے تنگ آ کر اب عوام نے سیاسی نظام سے ذہنی طور پر لاتعلقی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ یہ سیاسی پولرائزیشن (دھڑے بندی) جو سوشل میڈیا کے ذریعے اور سیاسی جماعتوں کے تھنک ٹینکس میں تیار کی جاتی ہے، معاشرے میں مایوسی پھیلا رہی ہے۔ لوگ اب اس روز روز کی تکرار سے تھک چکے ہیں۔ جب حکمران طبقہ عام آدمی کے بنیادی مسائل — جیسے سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار، نوجوانوں کے لیے روزگار کی کمی، اور بڑھتی ہوئی مہنگائی — کو چھوڑ کر صرف اپنے اقتدار کی جنگ میں مصروف نظر آئے گا، تو عام شہری کا ریاست پر سے اعتماد اٹھنا فطری ہے۔ جمہوریت اور سیاست کو ذاتی انا کی جنگ بنا لینا ایک بہت بڑی تاریخی غلطی ہے۔ عوام کی یہ خاموشی اور بیزاری ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ جب لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ ان کے ووٹ سے منتخب ہونے والے نمائندے ان کے بجائے صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، تو پورا معاشرتی ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو ڈرائنگ رومز اور بند کمروں سے نکل کر غریب کے چولہے کی فکر کرے۔ اگر سیاست دانوں کا واحد مقصد صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی رہا، تو انہیں حیران نہیں ہونا چاہیے جب عوام ان کی آوازوں کو سننا ہی بند کر دیں۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس