آزاد کشمیر میں مقامی طرزِ حکمرانی کا نیا موڑ: اسلام آباد، مظفرآباد اور گراس روٹ سیاست کی بدلتی صورتحال

آزاد جموں و کشمیر اس وقت ایک ایسے سیاسی و انتظامی موڑ پر کھڑا ہے جہاں دہائیوں سے قائم رواجی سیاسی ڈھانچہ اور نچلی سطح پر ابھرنے والی سول سوسائٹی کے درمیان فاصلے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ راولپنڈی، مظفرآباد اور کوٹلی سے لے کر میرپور اور راولا کوٹ تک، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی حالیہ تحریک نے محض روایتی مظاہروں سے آگے بڑھ کر ریاست کے آئینی و انتظامی ڈھانچے پر بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اب یہ مسئلہ صرف بجلی کے بلوں یا آٹے پر سبسڈی کا نہیں رہا، بلکہ یہ مقامی نمائندگی، آئینی اصلاحات اور خودحکمرانی کے دائرہ کار کا گہرا سیاسی بیانیہ بن چکا ہے۔

اس تحریک کے نئے مرحلے میں سب سے نمایاں پہلو آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے دیگر شہروں میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کا تنازعہ ہے۔ عوامی تحریک کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کی موجودہ ساخت مظفرآباد کی قانون ساز اسمبلی میں مقامی اور مقیمی آبادی کی حقیقی نمائندگی کو متاثر کرتی ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر کی جانب سے ان نشستوں کے تحفظ اور آئینی ترمیم کے بغیر تبدیلی نہ ہونے کے فیصلے کے بعد، قانونی پیچیدگیوں اور عوامی مطالبات کے درمیان اک تناؤ کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔ الیکشن کا بائیکاٹ اور راولا کوٹ سے مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی آبادی اب فیصلہ سازی کے تمام اختیارات مرکزی طرز کے بجائے گراس روٹ لیول پر دیکھنا چاہتی ہے۔

اس صورتحال میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مظفرآباد اور اسلام آباد کے پالیسی ساز ان تحاریک کو محض قانون نافذ کرنے والے اداروں یا وقتی انتظامی دباؤ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ حراستوں اور پرچوں کی منسوخی کو دوبارہ بحال کرنے جیسے تادیبی اقدامات سے اشتعال میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ سیاسی بے چینی اور اقتصادی عدم استحکام کا حل سخت انتظامی کنٹرول میں نہیں، بلکہ آئینی اور جمہوری ڈھانچے کو جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں پنہاں ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کے تمام فریقین—بشمول قانون ساز اسمبلی اور سیاسی قیادت—عوام کے آئینی خدشات کا سنجیدگی سے احاطہ کریں۔ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی ساکھ اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ عوامی جذبات کی عکاسی کرنے والی شفاف اصلاحات لائی جائیں۔ اگر مرکزی اور علاقائی حکومتوں نے نچلی سطح کی اس قیادت سے باضابطہ اور بامعنی سیاسی بات چیت کا راستہ نہ اختیار کیا، تو انتظامی کشمکش خطے میں مزید بے یقینی کو جنم دے گی—جس کا براہِ راست اثر مقامی معیشت، روزمرہ زندگی اور گراس روٹ کی شفاف حکمرانی پر پڑے گا۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس