تعلیم
مرکزی صفحہ پر واپس
امریکی جامعات میں مصنوعی ذہانت پر تقاریر کے خلاف گریجویٹس کا ردعمل تیز ہوگیا
امریکہ میں گریجویشن تقاریب، جو عموماً خوشی، امید اور نئی شروعات کی علامت سمجھی جاتی ہیں، اس بار مصنوعی ذہانت کے موضوع پر غیر معمولی بے چینی اور ردعمل کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ متعدد جامعات میں طلبہ نے ان مقررین کو نعروں اور احتجاجی انداز میں رد کیا جنہوں نے مستقبل کے مواقع، کیریئر یا انسانی ترقی کو مصنوعی ذہانت کے تناظر میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ نئی نسل کے لیے اے آئی محض ٹیکنالوجی کی ترقی کا استعارہ نہیں رہا بلکہ روزگار، تخلیقی خودمختاری اور انسانی مہارتوں کی قدر سے جڑا ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق کچھ گریجویٹس نے اس بیانیے کو مسترد کیا کہ ہر تعلیمی اور پیشہ ورانہ راستہ لازماً اے آئی کے ذریعے ہی معنی خیز ہوگا۔ تقریبِ اسناد جیسے رسمی اور علامتی موقع پر یہ مزاحمت دراصل اس خوف کی ترجمان ہے کہ وہ ڈگریاں جن کے لیے طلبہ نے برسوں محنت اور اخراجات برداشت کیے، کہیں ایک تیز رفتار خودکار معیشت میں غیر یقینی نہ ہو جائیں۔ یوں تعلیمی اداروں کے جشن کے لمحے میں بھی مستقبل سے متعلق اضطراب نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔
یہ رجحان اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی کے حامی حلقوں اور خود طلبہ کے درمیان مستقبل کی زبان ایک جیسی نہیں رہی۔ مقررین اکثر اے آئی کو ناگزیر تبدیلی اور اختراع کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر بہت سے طلبہ اسے اپنی آنے والی ملازمتوں، تحریری و تخلیقی کام اور پیشہ ورانہ شناخت کے لیے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اے آئی کیا کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے پھیلاؤ سے کس کا فائدہ ہوگا، کس کی جگہ کم ہوگی اور فیصلہ سازی کا اختیار کن اداروں کے ہاتھ میں مرتکز ہوگا۔ گریجویشن کے موقع پر سامنے آنے والی یہ مزاحمت بتاتی ہے کہ نوجوان نسل خوشنما نعروں سے زیادہ حقیقت پسندانہ گفتگو چاہتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملازمتوں کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہو۔ جامعات کے لیے اب چیلنج یہ نہیں رہا کہ وہ طلبہ کو صرف اے آئی استعمال کرنا سکھائیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ انہیں اس کے سماجی، معاشی اور اخلاقی نتائج پر تنقیدی سوچ کے ساتھ تیار کریں۔ اگر ادارے اس بے چینی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تو آنے والے برسوں میں ایسی تقریبات مزید علامتی احتجاج کا میدان بن سکتی ہیں۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
