دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
خواجہ آصف کے بعد اسرائیل کا ترکیہ اور جنوبی کوریا پر وار: سفارتی محاذ آرائی کی اصل وجہ کیا ہے؟
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت نے بین الاقوامی سطح پر اپنی تنقید کرنے والے ممالک کے خلاف ایک "سفارتی جنگ" کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیانات پر سخت ردعمل کے بعد، اب اسرائیل نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان اور جنوبی کوریا کے صدر کے خلاف بھی تند و تیز بیان بازی شروع کر دی ہے۔
اس جارحانہ رویے کی اصل وجہ ان ممالک کی جانب سے لبنان اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی کھلی مخالفت ہے۔ ترکیہ کے صدر اردگان نے حال ہی میں اسرائیل پر "ریاستی دہشت گردی" کا الزام لگاتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے جواب میں اسرائیل نے ترکیہ کو "علاقائی امن کے لیے خطرہ" قرار دے دیا۔ دوسری جانب، جنوبی کوریا کی جانب سے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار اسرائیلی حکام کو ناگوار گزرا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس وقت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے، اور وہ اپنی دفاعی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے ہر ملک کو "حماس کا ہمدرد" یا "سفارتی دشمن" قرار دے کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
