جغرافیائی سیاست
مرکزی صفحہ پر واپس
پوٹن اور شی جن پنگ کی بیجنگ میں ملاقات - روس اور چین کا "مستحکم" اتحاد
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بیجنگ میں چینی رہنما شی جن پنگ سے ملاقات سے پہلے ماسکو اور بیجنگ کے گہرے ہو رہے تعلقات کو دنیا کے لیے ایک "مستحکم" طاقت قرار دیا ہے۔ دو روزہ دورے سے پہلے اپنے خطاب میں، پوٹن نے کہا کہ روس اور چین کسی دوسری ملک کے خلاف سازش نہیں کرنا چاہتے بلکہ "امن اور عالمی خوشحالی" کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ ملاقات ایک سال میں دوسری بار ہے جب یہ دونوں رہنما آمنے سامنے مل رہے ہیں۔ پوٹن نے کہا کہ "روس اور چین بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کی حفاظت کے لیے اپنی کوششوں میں ہم آہنگی کر رہے ہیں۔" روس اور چین کے درمیان تجارت 2020 سے 2024 تک دگنی ہو گئی ہے اور 245 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ روس کی برآمدات میں بنیادی طور پر تیل، گیس اور کوئلہ شامل ہے، جو بین الاقوامی پابندیوں کے درمیان ماسکو کے لیے معاشی سہارا فراہم کرتے ہیں۔
یہ ملاقات روس اور چین کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعاون میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے، خاص طور پر جب دونوں ملک بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ پوٹن اور شی جن پنگ نے اپنے اقتصادی اور دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ یہ دورہ روس اور چین کے درمیان 1951 کے "اچھے پڑوسی اور دوستانہ تعاون" کے معاہدے کی 25ویں سالگرہ کو نشان زد کرتا ہے۔ دونوں ملک اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم، BRICS اور دیگر کثیر جہتی منصوبوں کے اندر تعاون کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ بیجنگ میں دو روزہ سمٹ مکمل کر چکے ہیں، لیکن تجارت، AI، تائیوان اور ایران جیسے اہم مسائل پر کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں ہوا۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
