جغرافیائی سیاست
مرکزی صفحہ پر واپس
بیجنگ میں شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کی ملاقات، چین نے عالمی توازن میں اپنی مستقل حیثیت اجاگر کر دی
بیجنگ میں منگل کے روز ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ چین اور روس اپنے تعلقات کو صرف رسمی سفارت کاری تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ انہیں بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ایک طویل المدتی اسٹریٹجک ڈھانچے کی صورت دینا چاہتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کا ایسے وقت میں استقبال کیا جب عالمی طاقتوں کے درمیان صف بندیاں مزید واضح ہو رہی ہیں، یوکرین جنگ بدستور بین الاقوامی سیاست پر اثر انداز ہے، اور امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات بھی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس ملاقات کی ٹائمنگ خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ چین دورے کے فوراً بعد ہو رہی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ بیجنگ بیک وقت مختلف عالمی قوتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن مگر اپنے مفادات کے مطابق ترتیب دے رہا ہے۔ چین کی جانب سے روس کے ساتھ اس سطح کی قربت کا اظہار نہ صرف سفارتی علامت ہے بلکہ یہ اس وسیع تر پالیسی کا حصہ بھی دکھائی دیتا ہے جس کے ذریعے بیجنگ خود کو ایک ایسی طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے جو عالمی کشیدگی، اقتصادی غیر یقینی اور اسٹریٹجک مقابلہ آرائی کے دور میں استحکام اور تسلسل کی علامت بن سکے۔
اس ملاقات میں توانائی، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی اداروں میں ہم آہنگی جیسے موضوعات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ روس، جو مغربی پابندیوں اور یوکرین جنگ کے باعث یورپی منڈیوں سے محدود ہوتا جا رہا ہے، چین کو ایک قابلِ اعتماد اقتصادی اور تزویراتی شراکت دار کے طور پر مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف چین بھی روس کے ساتھ اپنے روابط کو اس انداز میں آگے بڑھا رہا ہے کہ اسے توانائی کی طویل المدتی رسائی، جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ اور مغربی دباؤ کے مقابلے میں ایک سفارتی گنجائش حاصل رہے۔ اس پیش رفت کو صرف دو ممالک کے تعلقات کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے اثرات یورپ، امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا تک پھیل سکتے ہیں۔ اگر چین اور روس اپنی شراکت داری کو مزید منظم ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں تو یہ عالمی توازنِ طاقت میں نئی بحث چھیڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی ریاستیں ایک نئے کثیر قطبی عالمی نظام کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اسی لیے بیجنگ کی یہ میزبانی محض رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ آنے والے مہینوں کی عالمی سیاست کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
