ٹرمپ اور شی کے رابطوں کے باوجود آبنائے ہرمز پر تعطل برقرار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اس بات سے متفق ہیں کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنی چاہیے، مگر اب تک اس بات کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملا کہ بیجنگ عملی طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں، بحری تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ چین اگرچہ خطے میں ایک بڑی معاشی قوت اور ایران کا اہم شراکت دار ہے، لیکن اس نے فی الحال محتاط اور محدود سفارتی زبان اختیار کی ہوئی ہے۔ یہ صورتحال امریکہ، چین اور ایران کے درمیان پیچیدہ جغرافیائی سیاسی مثلث کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بیجنگ تہران پر اثر استعمال کرے، جبکہ چین کھلے تصادم سے بچتے ہوئے اپنی تجارتی اور سفارتی پوزیشن محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ نتیجتاً آبنائے ہرمز کا بحران صرف علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ بڑی طاقتوں کے مفادات، توانائی سلامتی اور عالمی سفارتی اثر و رسوخ کے امتحان میں بدل چکا ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس