سپین
مرکزی صفحہ پر واپس
سپین کے وزیرِاعظم نے اسرائیل کی شرکت پر یوروویژن بائیکاٹ کا دفاع کیا
اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے یوروویژن سانگ کانٹیسٹ کے بائیکاٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عالمی ثقافتی پروگراموں میں شرکت صرف تفریح کا معاملہ نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی پیغام بھی رکھتی ہے۔ اسرائیل کی شرکت کے خلاف اسپین کے مؤقف نے یورپ بھر میں اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا بڑے ثقافتی پلیٹ فارمز کو جاری تنازعات سے الگ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ سانچیز کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈرڈ اپنی پوزیشن کو محض علامتی احتجاج نہیں بلکہ اصولی سیاسی ردعمل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اس فیصلے نے اسپین کو ان یورپی آوازوں میں نمایاں کر دیا ہے جو غزہ جنگ کے تناظر میں ثقافتی بائیکاٹ کو مؤثر سفارتی اظہار سمجھتی ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ عالمی سطح پر دکھائی دینے والے ایسے اقدامات عوامی رائے اور بین الاقوامی دباؤ دونوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ یوروویژن جیسے بڑے ایونٹس میں اب صرف موسیقی اور اسٹیج پرفارمنس نہیں بلکہ ریاستی مؤقف، اخلاقی حساسیت اور بین الاقوامی ساکھ بھی شامل ہو چکی ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
