ایران اور مغرب کے درمیان 'شٹل ڈپلومیسی' میں تیزی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آج مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال کے پیش نظر پاکستان، عمان، روس اور چین کا طوفانی دورہ شروع کیا ہے۔ اس 'شٹل ڈپلومیسی' کا مقصد امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات میں تہران کے لیے یقین دہانیاں حاصل کرنا ہے۔ عراقچی، جو کہ ایٹمی مذاکرات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، ایک ایسی شخصیت ہیں جو مغرب کے ساتھ بات چیت کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز میں فوجی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ مغربی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراقچی کا یہ دورہ ایران کی اس کوشش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ مکمل جنگ سے بچنا چاہتا ہے لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتہ بھی نہیں کرے گا۔ اس دورے کے دوران وہ چین اور روس سے بھی اہم ملاقاتیں کریں گے تاکہ کسی بھی بڑے فوجی تنازع کی صورت میں ان کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ عالمی برادری اس سفارتی مشن کو انتہائی باریکی سے دیکھ رہی ہے کیونکہ اس کی کامیابی یا ناکامی مشرق وسطیٰ کے مستقل امن کا فیصلہ کرے گی۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس