سپین
مرکزی صفحہ پر واپس
اندلس میں جدید زراعت کا تجربہ؛ ڈرونز اور اے آئی کے ذریعے زیتون کی ریکارڈ پیداوار
جنوبی ہسپانوی علاقے اندلس نے زراعت میں انقلابی تبدیلی دیکھی ہے جہاں جدید ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے زیتون کی پیداوار میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ مقامی کسانوں نے سمارٹ سینسر نصب کیے ہیں جو مٹی کی نمی اور درختوں کی صحت کے بارے میں حقیقی وقت میں ڈیٹا فراہم کرتے ہیں، جس سے پانی اور کھاد کے استعمال پر 30 فیصد کی بچت ہوتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے نہ صرف پیداواری لاگت کو کم کیا ہے بلکہ زیتون کے تیل کے معیار کو بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق بڑھایا ہے، جس سے عالمی منڈی میں سپین کی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اس ’ڈیجیٹل فارمنگ‘ ماڈل کو اب پورے سپین میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے نوجوان کسانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے خصوصی فنڈز جاری کیے ہیں۔ ترقی نے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے اور ایک بار پھر نوجوان نسل کو زراعت کی طرف راغب کر رہی ہے۔ اندلس کا یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ اگر روایتی مہارتوں کو جدید سائنس کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو نہ صرف معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے بلکہ غذائی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
