گلگت بلتستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جدید 'ورٹیکل فارمنگ' (عمودی زراعت) کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، جس سے اب بنجر پہاڑوں کے درمیان تازہ سبزیاں اور پھل سارا سال اگائے جا سکیں گے۔ یہ فارمز جدید ایل ای ڈی لائٹس اور ہائیڈروپونک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں، جس میں روایتی زراعت کے مقابلے میں 90 فیصد کم پانی استعمال ہوتا ہے۔ اس پیش رفت سے مقامی آبادی کی غذائی ضروریات اب مقامی طور پر ہی پوری ہو سکیں گی۔
اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر مقامی پن بجلی (Hydro) کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جس سے لاگت انتہائی کم آتی ہے۔ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل اب پاکستان کے دیگر شمالی علاقوں میں بھی نافذ کیا جائے گا، تاکہ شدید سردی اور برف باری کے دوران بھی تازہ خوراک کی فراہمی برقرار رہے۔ اس اقدام نے نہ صرف مقامی کسانوں کی زندگی بدل دی ہے بلکہ اسے ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی ایک بڑی جیت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریاستی خبریں۔
مرکزی صفحہ پر واپس
گلگت بلتستان میں 'ورٹیکل فارمنگ' کا کامیاب تجربہ؛ پہاڑی علاقوں میں غذائی انقلاب
23 April 2026
Voice Of Spain
مرکزی صفحہ پر واپس
متعلقہ خبریں
سپین میں ہالی ووڈ ستاروں کی آمد؛ ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں م...
26-Apr-2026
خلائی ٹیکنالوجی اور عالمی ترقی؛ سیٹلائٹ مشنز کے نئے اہداف
26-Apr-2026
پاکستان میں 'ورچوئل عدالتی نظام' کا کامیاب نفاذ؛ مقدمات کے ...
25-Apr-2026
بھارت میں 'سولر ہائی ویز' کا کامیاب تجربہ؛ سڑکوں پر لگی شفاف...
25-Apr-2026
صحرائے اعظم میں 'گرین وال' کی بڑی کامیابی؛ مصنوعی ذہانت کے ذ...
24-Apr-2026
وینسیا کی 'آرٹیفیشل انٹیلیجنس جھیل'؛ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ن...
24-Apr-2026
سپین میں 'اسمارٹ زراعت' کا انقلاب؛ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ز...
24-Apr-2026
