مشرقِ وسطیٰ میں 'سبز سفارت کاری'؛ پانی کے مشترکہ ذخائر پر تاریخی علاقائی معاہدہ

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک نے دہائیوں پرانے آبی تنازعات کو ختم کرتے ہوئے ایک مشترکہ 'واٹر شیئرنگ گرڈ' قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت جدید ترین ڈی سیلینیشن (نمک نکالنے) کے پلانٹس اور زیرِ زمین آبی ذخائر کو ایک مرکزی نظام کے ذریعے جوڑا جائے گا، تاکہ کسی بھی ملک میں پانی کی قلت نہ ہو۔ اس اقدام کو خطے میں پائیدار امن اور تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی جیو پولیٹیکل ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 'گرین ڈپلومیسی' ثابت کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز روایتی دشمنوں کو بھی ایک میز پر لا سکتے ہیں۔ اس معاہدے سے نہ صرف غذائی تحفظ یقینی ہو گا بلکہ خطے میں معاشی استحکام بھی آئے گا۔ یہ ماڈل اب دنیا کے دیگر ان حصوں کے لیے بھی زیرِ غور ہے جہاں پانی کی تقسیم پر تنازعات موجود ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بقائے باہمی ہی مستقبل کا واحد راستہ ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس