مصنوعی ذہانت کے ذریعے قدیم ترین تہذیبوں کے 'خفیہ کوڈز' ڈی کوڈ؛ تاریخ کے نئے باب روشن

آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے ایک طاقتور اے آئی سسٹم کے ذریعے ان قدیم تحریروں کو پڑھنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جو پچھلے پانچ سو سالوں سے ایک معمہ بنی ہوئی تھیں۔ ان تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ قدیم تہذیبوں کے پاس زراعت اور فلکیات کے ایسے طریقے موجود تھے جو آج کے دور کے مقابلے میں کہیں زیادہ پائیدار اور جدید تھے۔ اس انکشاف نے انسانی تاریخ کے بارے میں ہمارے کئی فرسودہ تصورات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

یہ اے آئی سسٹم ہزاروں ٹوٹے ہوئے کتبوں اور مسودات کا موازنہ کر کے ان کے درمیان منطقی تعلق تلاش کرتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد اب ماہرین کا اگلا ہدف ان تہذیبوں کے گمشدہ شہروں کو تلاش کرنا ہے جن کا ذکر ان تحریروں میں کیا گیا ہے۔ یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ ماضی کی حکمت اور مستقبل کی ٹیکنالوجی مل کر انسانیت کو خود کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
مرکزی صفحہ پر واپس