مشرقِ وسطیٰ میں 'ہنگج مومنٹ'؛ کیا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کا خطرہ مستقل عالمی بحران بن چکا ہے؟

آج 21 اپریل 2026 کو بین الاقوامی جیو پولیٹیکل ماہرین مشرقِ وسطیٰ کو ایک 'تبدیلی کے موڑ' (Hinge Moment) پر دیکھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں ایران کی جانب سے فوجی کنٹرول اور حالیہ فائرنگ کے واقعات نے عالمی تیل کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث ہانگ کانگ، سنگاپور اور آسٹریلیا کی ایئر لائنز نے خلیج کے راستے پروازیں بند کر کے یورپی روٹس پر انحصار بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ علاقہ ایک ایسے کثیر القطبی آرڈر (Multipolar Order) میں بدل جائے گا جہاں روایتی طاقتوں کا اثر ختم ہو جائے گا اور جنگ کے اثرات کئی دہائیوں تک برقرار رہیں گے۔ اس بحران نے نہ صرف عالمی معیشت بلکہ بحری نقل و حمل کے قوانین کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ دوسری جانب روس اور چین اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، 2026 کا اپریل تاریخ میں ایک ایسے مہینے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے پرانے عالمی نظام کی جگہ ایک غیر یقینی اور خطرناک نئی ترتیب کو جنم دیا۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس