سپین کا یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ

سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے آج 20 اپریل 2026 کو بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنا 'ایسوسی ایشن معاہدہ' (Association Agreement) فوری طور پر ختم کر دے۔ اندلس میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان میں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے بعد اس کے ساتھ تجارتی اور سفارتی شراکت داری جاری رکھنا اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔ سپین کل منگل کو یورپی یونین کے اجلاس میں باضابطہ طور پر یہ تجویز پیش کرے گا، جس کا مقصد اسرائیل پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔

سپین کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم یورپی یونین کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ رہا ہے، کیونکہ آئرلینڈ اور سلووینیا جیسے ممالک بھی اس تجویز کی حمایت کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم سانچیز نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کا احترام یورپی یونین کے ہر معاہدے کی بنیادی شرط ہے، اور موجودہ حالات میں اس کی خلاف ورزی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ معاہدہ ختم ہو جاتا ہے تو اسرائیل کو یورپی منڈیوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر عالمی اثرات مرتب ہوں گے اور سپین کا قد ایک جرات مند سفارتی کھلاڑی کے طور پر مزید بلند ہو جائے گا۔
مرکزی صفحہ پر واپس