عالمی طاقتوں کا زوال اور ’درمیانی طاقتوں‘ کا عروج: کیا پاکستان نیا عالمی کھلاڑی بن رہا ہے؟

آج 20 اپریل 2026 کو عالمی ماہرینِ نفسیات اور سیاسی تجزیہ کار اس بحث میں مصروف ہیں کہ کیا روایتی عالمی طاقتوں (Superpowers) کے اثر و رسوخ میں کمی پاکستان جیسی ’درمیانی طاقتوں‘ (Middle Powers) کے لیے نئے راستے کھول رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور کثیر القطبی دنیا (Multipolar World) کے قیام نے ان ممالک کو اہمیت دی ہے جو تزویراتی طور پر اہم مقامات پر واقع ہیں اور جن کی سفارتی رسائی وسیع ہے۔ پاکستان، اپنی جغرافیائی اہمیت اور حالیہ برسوں میں ایران، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان کامیاب ثالثی کی کوششوں کی وجہ سے، ایک ایسی ’درمیانی طاقت‘ کے طور پر ابھر رہا ہے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں بھی کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس نئے عالمی آرڈر میں پاکستان کی اہمیت محض فوجی قوت سے نہیں بلکہ اس کی ’سفارتی چابکدستی‘ اور ’کولیشن بلڈنگ‘ (Coalition Building) کی صلاحیت سے ناپی جا رہی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات اور عالمی فورمز پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے قد نے یہ ثابت کیا ہے کہ روایتی طاقتوں کا جمود ختم ہو رہا ہے اور اب فیصلے صرف واشنگٹن یا بیجنگ میں نہیں بلکہ اسلام آباد، انقرہ اور جکارتہ جیسے دارالحکومتوں میں بھی ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنی داخلی معیشت کو سنبھالا دیا اور اس سفارتی رفتار کو برقرار رکھا، تو وہ مستقبل کے عالمی ڈھانچے میں ایک ’معتبر معمارِ امن‘ (Architect of Peace) کے طور پر خود کو مستقل طور پر منوا سکے گا، جو اسے محض ایک شریک کار کے بجائے ایک فیصلہ ساز قوت بنا دے گا۔
مرکزی صفحہ پر واپس