سپین میں 'انکلوسیو لیبلنگ' کا نیا قانون: بینائی سے محروم افراد کے لیے خوراک اور کاسمیٹکس پر خصوصی کوڈز لازمی قرار

سپین کی حکومت نے آج 19 اپریل 2026 کو ایک انقلابی شاہی فرمان (Royal Decree) کا مسودہ جاری کیا ہے جس کے تحت ملک میں فروخت ہونے والی تمام خوراک، کاسمیٹکس اور خطرناک اشیاء پر 'انکلوسیو لیبلنگ' (Inclusive Labeling) لازمی ہوگی۔ اس قانون کا مقصد بینائی سے محروم اور معذور افراد کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ کسی بھی مصنوعات کے اجزاء اور خطرات کو خود سمجھ سکیں۔ نئے لیبلز میں بریل (Braille) اور خصوصی QR کوڈز شامل ہوں گے جنہیں اسمارٹ فون کے ذریعے اسکین کر کے تمام معلومات آڈیو کی صورت میں سنی جا سکیں گی۔

وزارتِ سماجی حقوق کے مطابق، یہ قانون 2026 کے دوسرے نصف حصے سے نافذ العمل ہوگا اور اس سے سپین کے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے سپین کے اس قدم کو ڈیجیٹل دور میں "مساوات کی بہترین مثال" قرار دیا ہے۔ اس اقدام سے جہاں کاروباری اداروں کو اپنی پیکیجنگ میں تبدیلیاں کرنی ہوں گی، وہیں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے 'ایسس ایبلٹی ایپس' (Accessibility Apps) کی مارکیٹ میں نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو سپین کو ایک "اسمارٹ اور انکلوسیو سوسائٹی" بنانے میں مدد دیں گے۔
مرکزی صفحہ پر واپس