آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل گیا مگر امریکی صدر کا بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان

مشرقِ وسطیٰ سے آج ایک متضاد صورتحال سامنے آئی ہے جہاں ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 'آبنائے ہرمز' (Strait of Hormuz) اب تمام عالمی تجارت کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔ تاہم، امریکی صدر نے ایک وائرل بیان میں واضح کیا ہے کہ جب تک تہران کے ساتھ حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا، تب تک ایرانی تیل کی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ اس صورتحال نے عالمی تیل کی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ ایک طرف راستہ کھلنے کی امید ہے تو دوسری طرف پابندیوں کی سختی برقرار ہے۔

پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے تاکہ خطے کو کسی بڑے فوجی تصادم سے بچایا جا سکے۔ عالمی رہنماؤں نے اس پیش رفت کو سراہا ہے لیکن خبردار کیا ہے کہ جب تک واشنگٹن اور تہران براہِ راست کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچتے، عالمی توانائی کی سپلائی چین خطرے میں رہے گی۔ پیرس اور لندن میں بھی آج اس حوالے سے ہنگامی اجلاس بلائے گئے ہیں تاکہ متبادل تجارتی راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
مرکزی صفحہ پر واپس