بارسلونا میں آج سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز اور برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خلاف ایک نئے "جمہوری اتحاد" کا اعلان کیا ہے۔ پیڈرو سانچیز نے خبردار کیا کہ اگر جمہوری اقدار کو پسِ پشت ڈالا گیا تو دنیا کو دوبارہ آمرانہ دور کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس ملاقات کا مقصد ترقی پسند قوتوں کو یکجا کرنا ہے تاکہ غلط معلومات (Disinformation) اور نفرت انگیز بیانیے کا مقابلہ کیا جا سکے، جو سپین اور لاطینی امریکہ کے جمہوری اداروں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
اس سفارتی پیش رفت کو میڈرڈ میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ سپین اس وقت یورپی یونین میں بائیں بازو کی سیاست کا اہم مرکز بن چکا ہے۔ سانچیز نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارے مضبوط ہوں اور طاقت کا توازن برقرار رہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی تجارت کے حوالے سے بھی نئے معاہدوں پر دستخط کیے، جن کا مقصد سپین اور جنوبی امریکہ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سپین
مرکزی صفحہ پر واپس
سپین میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے بڑے اتحاد کا قیام اور وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا سخت پیغام
18 April 2026
Voice Of Spain
مرکزی صفحہ پر واپس
متعلقہ خبریں
سپین میں ہالی ووڈ ستاروں کی آمد؛ ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں م...
26-Apr-2026
خلائی ٹیکنالوجی اور عالمی ترقی؛ سیٹلائٹ مشنز کے نئے اہداف
26-Apr-2026
پاکستان میں 'ورچوئل عدالتی نظام' کا کامیاب نفاذ؛ مقدمات کے ...
25-Apr-2026
بھارت میں 'سولر ہائی ویز' کا کامیاب تجربہ؛ سڑکوں پر لگی شفاف...
25-Apr-2026
صحرائے اعظم میں 'گرین وال' کی بڑی کامیابی؛ مصنوعی ذہانت کے ذ...
24-Apr-2026
وینسیا کی 'آرٹیفیشل انٹیلیجنس جھیل'؛ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ن...
24-Apr-2026
سپین میں 'اسمارٹ زراعت' کا انقلاب؛ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ز...
24-Apr-2026
