بحرِ ہند اور بحر الکاہل میں امریکی دفاعی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی اور چھوٹے جوہری ری ایکٹرز کی تنصیب کا اہم اعلان

امریکی فوج کے سیکرٹری ڈین ڈررسکول نے آج 17 اپریل 2026 کو امریکی کانگریس کے سامنے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک پالیسی بیان جاری کیا ہے جس نے عالمی دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ڈررسکول نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن اب انڈو پیسیفک خطے میں اپنی فوجی اڈوں، بالخصوص گوام (Guam) جیسے اہم مقامات پر چھوٹے جوہری ری ایکٹرز (Small Nuclear Reactors) نصب کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دور دراز کے فوجی اڈوں کو توانائی کے لحاظ سے خود کفیل بنانا اور کسی بھی ممکنہ عالمی تنازعے کی صورت میں بجلی کی ترسیل کو بلا تعطل برقرار رکھنا ہے تاکہ آپریشنل تیاریوں میں کوئی کمی نہ آئے۔

اس نئی دفاعی پالیسی کو خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم کرنے سے امریکی فوج کی جنگی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں زیادہ موثر طریقے سے ردعمل دے سکیں گے۔ ماہرینِ جیو پولیٹکس کے مطابق جوہری ری ایکٹرز کی یہ تنصیب نہ صرف ایک تکنیکی اپ گریڈ ہے بلکہ یہ ایشیا بحر الکاہل کے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ کے پختہ عزم کا ایک واضح پیغام بھی ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں عالمی سیاست پر گہرے مرتب ہوں گے۔
مرکزی صفحہ پر واپس