جغرافیائی سیاست
مرکزی صفحہ پر واپس
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز اور پاکستان کا عالمی ثالث کے طور پر ابھار
پاکستان کی کامیاب ترین خارجہ پالیسی اور عسکری قیادت کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا دوسرا انتہائی اہم دور شروع ہونے والا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ واضح پیغام سامنے آیا ہے کہ وہ اس پیچیدہ تنازعے کے حل کے لیے صرف اور صرف پاکستان کی ثالثی اور دیانتداری پر مکمل اعتماد کرتے ہیں اور واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لیے اسلام آباد کو ہی سب سے موزوں اور غیر جانبدار مقام تصور کرتے ہیں۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ایک بڑی اسٹریٹجک فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے خطے کو ایک ہولناک ایٹمی جنگ کے سائے سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اب محض ایک علاقائی کھلاڑی نہیں رہا بلکہ ایک ذمہ دار اور بااثر عالمی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جس کی کوششوں کا اعتراف یورپی یونین سمیت تمام بڑی طاقتوں نے بھی کیا ہے۔ مذاکرات کے اس فیصلہ کن مرحلے میں ایٹمی پروگرام کی حدود کے تعین اور آبنائے ہرمز سے ناکہ بندی ہٹانے جیسے حساس معاملات پر اہم پیش رفت متوقع ہے جس کے براہ راست اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے استحکام پر مرتب ہوں گے۔ پوری دنیا کے سفارتی حلقے اس وقت اسلام آباد کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کیا یہ مذاکرات کسی مستقل امن معاہدے کی صورت میں دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے بچانے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
