ویٹیکن سٹی سے پوپ لیو کا عالمی طاقتوں کے نام سخت پیغام اور انسانیت کو بچانے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ

ویٹیکن سٹی کے مرکز سے پوپ لیو نے آج ایک انتہائی جذباتی اور کڑے خطاب میں دنیا کے ان چند طاقتور رہنماؤں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن کے فیصلوں اور ضد نے پوری انسانیت کو ایک ہولناک تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پوپ نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ دنیا اس وقت چند مخصوص گروہوں اور آمرانہ سوچ رکھنے والے لیڈروں کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے جو اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات کو عالمی امن اور انسانی زندگیوں پر ترجیح دے رہے ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی اور معصوم بچوں و شہریوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے عالمی قوتوں سے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

پوپ لیو نے اپنے خطاب کے دوران عالمی برادری کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنگوں اور مہلک ہتھیاروں پر اربوں ڈالر ضائع کرنے کے بجائے ان وسائل کو صحت، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین مسائل کے حل پر خرچ کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بڑی طاقتوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے اور اپنی انا کی جنگ بند نہ کی تو تاریخ اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ویٹیکن کا یہ سخت موقف ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی عروج پر ہے اور اس بیان کو دنیا بھر میں امن کے سفیروں کی جانب سے بھرپور تائید حاصل ہو رہی ہے۔
مرکزی صفحہ پر واپس