سپین کی نئی تجارتی حکمت عملی اور بیجنگ میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والے دور رس معاہدات

سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بیجنگ کے اپنے حالیہ سرکاری دورے کے دوران عالمی تجارتی تنازعات کے حل کے لیے چین کے کردار کو انتہائی کلیدی اور ناگزیر قرار دیا ہے۔ سانچیز نے صدر شی جن پنگ سے تفصیلی ملاقات کے بعد ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپین اب یورپی یونین اور چین کے درمیان ایک مضبوط سفارتی اور معاشی پل کا کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی محور سپین کی برآمدات کو بڑھانا اور خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں اور گرین انرجی کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کو ہسپانوی مارکیٹ میں لانا ہے تاکہ عالمی معاشی سست روی کے باوجود ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی سپین نے آبنائے ہرمز کے بحران کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے بھی چین سے خصوصی تعاون کی اپیل کی ہے کیونکہ چین کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اس ناکہ بندی کو ختم کروانے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہسپانوی حکومت کا ماننا ہے کہ توانائی کی سیکیورٹی کے لیے اس سمندری راستے کا کھلا رہنا سپین اور پورے یورپ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ میڈرڈ کی اس نئی خارجہ پالیسی کو ایک ایسی متوازن حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں وہ امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی اتحاد کو ٹھیس پہنچائے بغیر چین کے ساتھ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتا ہے۔
مرکزی صفحہ پر واپس