اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا فیصلہ ایک انتہائی جارحانہ قدم ہے، جس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو 'صفر' کرنا اور اسے مذاکرات کی میز پر اپنی شرائط منوانے کے لیے لانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ناکہ بندی طویل ہوتی ہے تو ایران کو ماہانہ تقریباً 13 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے، جو اس کی پہلے سے کمزور معیشت کے لیے جان لیوا ثابت ہوگا۔
تاہم، یہ اقدام امریکہ کے لیے ایک دو دھاری تلوار ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے، اور اس کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ ایران نے پہلے ہی دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی بندرگاہیں محفوظ نہیں رہیں تو خلیجِ فارس کا کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں رہے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چین اور بھارت جیسے بڑے خریدار امریکی دباؤ میں آکر ایرانی تیل سے کنارہ کشی کریں گے؟ اگر امریکہ ان ممالک کے جہازوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ ایک علاقائی تنازع کو عالمی جنگ میں بدل سکتا ہے۔
دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
امریکی ناکہ بندی کا جُوا: کیا ٹرمپ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکیں گے؟
14 April 2026
Voice Of Spain
مرکزی صفحہ پر واپس
متعلقہ خبریں
سپین میں ہالی ووڈ ستاروں کی آمد؛ ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں م...
26-Apr-2026
خلائی ٹیکنالوجی اور عالمی ترقی؛ سیٹلائٹ مشنز کے نئے اہداف
26-Apr-2026
پاکستان میں 'ورچوئل عدالتی نظام' کا کامیاب نفاذ؛ مقدمات کے ...
25-Apr-2026
بھارت میں 'سولر ہائی ویز' کا کامیاب تجربہ؛ سڑکوں پر لگی شفاف...
25-Apr-2026
صحرائے اعظم میں 'گرین وال' کی بڑی کامیابی؛ مصنوعی ذہانت کے ذ...
24-Apr-2026
وینسیا کی 'آرٹیفیشل انٹیلیجنس جھیل'؛ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ن...
24-Apr-2026
سپین میں 'اسمارٹ زراعت' کا انقلاب؛ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ز...
24-Apr-2026
