امریکی ناکہ بندی کا جُوا: کیا ٹرمپ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکیں گے؟

اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا فیصلہ ایک انتہائی جارحانہ قدم ہے، جس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات کو 'صفر' کرنا اور اسے مذاکرات کی میز پر اپنی شرائط منوانے کے لیے لانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ناکہ بندی طویل ہوتی ہے تو ایران کو ماہانہ تقریباً 13 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو سکتا ہے، جو اس کی پہلے سے کمزور معیشت کے لیے جان لیوا ثابت ہوگا۔

تاہم، یہ اقدام امریکہ کے لیے ایک دو دھاری تلوار ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے، اور اس کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ ایران نے پہلے ہی دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی بندرگاہیں محفوظ نہیں رہیں تو خلیجِ فارس کا کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں رہے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چین اور بھارت جیسے بڑے خریدار امریکی دباؤ میں آکر ایرانی تیل سے کنارہ کشی کریں گے؟ اگر امریکہ ان ممالک کے جہازوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے، تو یہ ایک علاقائی تنازع کو عالمی جنگ میں بدل سکتا ہے۔
مرکزی صفحہ پر واپس