"ٹیکسوں کا نیا طوفان اور تنخواہ دار طبقہ: بجٹ سے قبل بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی"

اسلام آباد اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے درمیان آئندہ طویل مدتی قرضے کے پروگرام کے لیے جاری مذاکرات کے دوران، وفاقی بجٹ کے حوالے سے سامنے آنے والی حالیہ تجاویز نے ملک کے تنخواہ دار طبقے میں شدید خوف و ہراس اور معاشی اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ میڈیا اور عوامی حلقوں میں گردش کرنے والی ان رپورٹس نے، جن کے مطابق نئے مالیاتی سال کے بجٹ میں پہلے سے ہی ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے تنخواہ دار افراد پر مزید انکم ٹیکس سلیبس اور ٹیکس کی شرح میں غیر معمولی اضافے کی تیاری کی جا رہی ہے، متوسط طبقے کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کی تاریخ کی بلند ترین مہنگائی، بجلی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام شہری کی قوتِ خرید کو پہلے ہی مفلوج کر رکھا ہے، تنخواہ دار طبقے پر مزید معاشی بوجھ ڈالنا سراسر ناانصافی اور غیر دانشمندانہ اقدام ہوگا۔ اس معاشی بحران کا سب سے تلخ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی ملک کو مالیاتی خسارے یا آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا سامنا ہوتا ہے، تو مقتدر حلقوں کا پہلا اور آسان ترین ہدف ہمیشہ دستاویزی معیشت سے جڑا یہی تنخواہ دار طبقہ بنتا ہے، جس کا ٹیکس براہِ راست اس کی تنخواہ سے کٹ جاتا ہے۔ دوسری طرف، ملک کے بااثر اور بڑے معاشی شعبے، جیسے کہ بڑا رئیل اسٹیٹ، زراعت اور ریٹیل سیکٹر، اب بھی ٹیکس نیٹ سے بڑی حد تک باہر ہیں یا ان پر عائد ٹیکسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ غیر متوازن اور یکطرفہ ٹیکسیشن نظام نہ صرف مڈل کلاس کو تیزی سے خط غربت سے نیچے دھکیل رہا ہے، بلکہ ملک کے قابل ترین نوجوانوں، آئی ٹی پروفیشنلز اور انجینئرز کو بڑے پیمانے پر ہجرت (Brain Drain) پر مجبور کر رہا ہے، کیونکہ ان کے لیے اپنی ایماندارانہ کمائی کا آدھا حصہ ٹیکسوں کی نذر کر کے بقا برقرار رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال پالیسی سازوں کے لیے ایک سنگین اور آخری انتباہ ہے۔ کسی بھی ملک کی معیشت کا پہیہ اس کا مڈل کلاس اور پڑھے لکھے پیشہ ور افراد چلاتے ہیں، اور اگر انہیں ہی مسلسل معاشی طور پر نچوڑا گیا تو ملکی ترقی کا پورا ڈھانچہ منہدم ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ لادنے کے بجائے، ہنگامی بنیادوں پر غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لائے، بڑے تاجروں اور جاگیرداروں پر منصفانہ ٹیکس عائد کرے اور اپنے غیر پیداواری سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کرے۔ اگر اس بجٹ میں مڈل کلاس کو ریلیف دینے کی بجائے مزید معاشی قربانی کا بکرا بنایا گیا، تو یہ بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی ایک سنگین معاشی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس پر قابو پانا پھر کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس