خلیجِ فارس میں تیل و گیس کے بے پناہ ذخائر: قدرت کا کرشمہ یا جغرافیائی معجزہ؟

خلیجِ فارس دنیا کا وہ منفرد خطہ ہے جہاں کرہ ارض کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا تقریباً 60 فیصد اور گیس کے ذخائر کا 35 فیصد پایا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسی جگہ پر اتنی بڑی مقدار میں توانائی کیوں موجود ہے؟ سائنسدانوں کے مطابق اس کی چار بنیادی وجوہات ہیں:

قدیم 'ٹیتھیس سمندر' (Tethys Sea): کروڑوں سال پہلے یہ خطہ ایک گرم اور اتھلے سمندر 'ٹیتھیس' کا حصہ تھا۔ یہاں مائیکرو آرگنزمز (چھوٹے جاندار) اور سمندری نباتات کی اتنی بڑی مقدار تھی جو مرنے کے بعد سمندر کی تہہ میں جمع ہوتی رہی۔ یہی نامیاتی مادہ (Organic Matter) وقت کے ساتھ تیل اور گیس میں تبدیل ہوا۔

ٹیکٹونک پلیٹوں کا ٹکراؤ: تقریباً 35 ملین سال پہلے عربی پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے آپس میں ٹکرانے سے زمین کی تہوں میں شدید دباؤ پیدا ہوا۔ اس دباؤ نے زیرِ زمین چٹانوں کو 'اینٹی کلائنز' (محرابی شکل) میں بدل دیا، جو قدرتی طور پر تیل اور گیس کو ذخیرہ کرنے کے لیے بہترین 'ٹریپس' (Traps) ثابت ہوئے۔

بہترین ذخیرہ اندوز چٹانیں (Reservoir Rocks): اس خطے کی چٹانیں (زیادہ تر چونے کا پتھر یا Limestone) انتہائی مسام دار ہیں، جو تیل کو اپنے اندر جذب کرنے اور اسے طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہیں۔

قدرتی ڈھکن (Cap Rocks): تیل کے ان ذخائر کے اوپر نمک اور دیگر معدنیات کی ایسی سخت تہیں موجود ہیں جنہوں نے 'ڈھکن' کا کام کیا اور تیل یا گیس کو زمین کی سطح پر آکر ضائع ہونے سے روکے رکھا۔

یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے سعودی عرب کا 'غوار' (Ghawar) جیسا دنیا کا سب سے بڑا تیل کا کنواں اور قطر و ایران کا 'نارتھ پارس' جیسا گیس کا عظیم ذخیرہ اسی خطے میں پایا جاتا ہے۔
مرکزی صفحہ پر واپس